Al-Risala · January 2014 · page

القرآن مشن، کشمیر

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

پیدا کرے کہ وہ خود دریافت کردہ معرفت(self-discovered realization) پر کھڑا ہو سکے۔ اس کے اندر وہ آفاقی ذہن پایا جائے جو ساری کائنات کو اپنے ربانی رزق کا دسترخوان بنا سکے، جس کی مثبت سوچ(positive thinking) اتنی بڑی ہوئی ہو کہ وہ منفی آئٹم(negative item) کو بھی مثبت آئٹم(positive item) میں تبدیل کر سکے۔ اس کا عبادتی شعور اتنا ترقی یافتہ ہو کہ وہ اس طرح اللہ کی عبادت کرے، جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

انسان کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: اَلَّذِيۡ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو اس لیے بسایا گیا ہے کہ یہاں احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جاسکے- یہ عمل پوری انسانی تاریخ میں جاری ہے۔ خدائی نظام کے تحت اس دنیا میں ہر فرد کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے ماحول ہی میں معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون شخص احسن العمل تھا اور کون شخص احسن العمل نہ تھا۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر کا جو نظام قائم تھا، وہ اس میں رکاوٹ تھا کہ کوئی فرد آزادانہ طور پر اپنی شخصیت کی مثبت تعمیر کرے اور اپنے آپ کو احسن العمل بنائے۔ یہ نظام، اللہ کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ اس لیے قرآن میں اس کو فتنه کہا گیا ہے اور اہلِ ایمان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعے اس ناموافق نظام کو توڑ دیں، تاکہ ہر انسان کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اگر چاہے تو اپنے آپ کو احسن العمل کی حیثیت سے تیار کرے ۔ (13 ستمبر 2013)

القرآن مشن، کشمیر

کشمیر میں موجود دعوتی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک منظم دعوتی مہم چلائی جا رہی ہے۔ جو حضرات اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہ حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں:

Al-Quran Mission, Kashmir Email: kwc.beerwah@gmail.com, Mob. 9419488008

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page