Bulldoze them all.
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۱۷
تہذیب اپنی موت آپ مررہی ہے، تاکہ مسلمانوں کو دوبارہ ان کا بلند مقام حاصل ہوجائے۔ کسی نے بتایا کہ دنیا کا اسٹیج مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا انتظار کر رہا ہے: اُٹھ، کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے موجودہ زمانے میں شاعروں اور خطیبوں اور انشا پردازوں کے علاوہ، ایک اور طبقہ پیدا ہوا جسے کو مسلم ڈیبیٹر (مناظر) کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے شان دار اسٹیج بنائے اور وہاں پر جوش تقریریں کیں۔ انھوں نے ٹی وی کے اسکرین پر مناظرانہ مظاہرے کیے۔ انھوں نے مسلم نفسیات کو یہ کہہ کر فرضی فتوحات کی خوراک دی کہ— ان سب کو بل ڈوز کردو:
Bulldoze them all.
یہ مسلم ڈیبیٹر اس آخری حد تک گیے کہ جب مسلمانوں کو ٹررسٹ (terrorist) کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہاں، ہم ٹررسٹ ہیں۔ مگر ہم پولس کی طرح مجرمین کے لیے ٹررسٹ ہیں: Every Muslim should be a terrorist. A terrorist is a person who causes terror. The moment a robber sees a policeman, he is terrified. A policeman is a terrorist for the robber. Similarly, every Muslim should be a terrorist for the anti-social elements of society, such as thieves, dacoits and rapists. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو قطب اور اقبال اور مودودی اور احمد دیدات کے ذریعے اسلام ملا، وہ دراصل ایک شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ قومی اسلام کوربانی اسلام کا درجہ دے رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے ان حضرات کے ذریعے اپنے قومی فخر کو دوبارہ حاصل کر لیا، مگر غلط فہمی کی بنا پر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اُن کو حقیقی اسلام حاصل ہو گیا ہے۔ اسی قسم کے ایک مسلمان سے 2007 میں میری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ اُن کے والدین شام سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر وہ شام کو چھوڑ کر ترکی گئے۔ پھر ترکی سے وہ آسٹریلیا منتقل ہو گیے۔ اس وقت یہ فیملی آسٹریلیا میں رہ رہی ہے۔ مسٹر مراد کی تعلیم آسٹریلیا کے اسکول اور کالج میں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسکول ایک کرسچن اسکول تھا۔ وہاں انھیں بتایا جاتا تھا کہ عیسائیت (Christianity) زیادہ اچھا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues