Al-Risala · July 2014 · page 22

سیکولرزم کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲

سیکولرزم کیا ہے

رسول اور اصحابِ رسول کو حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین، سب کا سب، اللہ کے لیے ہو جائے۔

قرآن کی اس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے، جو کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں قائم تھا۔ یہ نظام جبر خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا، اس لیے حکم دیا گیا کہ اس کو ختم کر دو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرنی پڑے، تا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور پیدا ہو اور انسان اللہ کے حکم پر چلنے کے لیے پوری طرح آزاد ہو جائے۔ یہ ایک دور کو بدلنے کا حکم تھا، اور کسی دور کی تبدیلی اچانک نہیں ہوتی، بلکہ وہ لمبے تاریخی عمل (historical process) کے ذریعے ہوتی ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے انسانی تاریخ میں یہ عمل جاری ہوا۔ مختلف حالات کے دوران وہ آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ سیاسی نظام میں سیکولرزم کا اصول اسی انقلاب کا نتیجہ ہے۔

سیکولرزم کوئی اینٹی مذہب (anti-religion) نظریہ نہیں ہے۔ سیکولرزم کا مطلب صرف یہ ہے کہ سیاسی اقتدار، مذہب کے معاملے میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے۔ مصلحین کی مسلسل کوشش کے نتیجے میں آج سیکولرزم کا یہ سیاسی نظریہ انٹرنیشنل سطح پر ایک مسلمہ اصول (accepted norm) بن چکا ہے۔ اس کو اقوام متحدہ (United Nations) کا سینکشن (sanction) حاصل ہے۔ اصولی طور پر دنیا کی تمام حکومتیں اس پالیسی کو اختیار کر چکی ہیں۔ سیکولرزم کے اس جدید نظریے نے تاریخ میں پہلی بار مذہبی جبر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ آج ہر انسان کا یہ ایک مسلمہ حق ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے، اختیار کرے اور جس مذہب پر چاہے،

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page