سیکولرزم کیا ہے
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳
عمل کرے اور جس مذہب کی چاہے، تبلیغ کرے ۔ اس حق (right) کو استعمال کرنے کی صرف ایک شرط ہے، وہ یہ کہ انسان جو کچھ کرے، اس کو وہ پرامن طور پر کرے، کسی بھی حال میں وہ تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے۔
موجودہ زمانے میں بار بار میڈیا میں اس قسم کی خبریں آتی ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں ملک میں اسلام پسند جماعتوں پر تشدد کیا گیا ۔ مثلاً الاخوان المسلمون کے لیڈر سید قطب کو 1965 میں پھانسی دی گئی ۔ جماعتِ اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی کو 1948 میں جیل کی سزا دی گئی، مگر اس قسم کے تمام واقعات سیاسی بنیاد پر ہوئے، نہ کہ حقیقةً مذہبی بنیاد پر۔ اس قسم کے تمام لوگوں کو جو سزائیں دی جا رہی ہیں، وہ دراصل سیاسی سزائیں ہیں، نہ کہ مذہبی سزائیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کچھ اسلام پسند لیڈر اٹھے۔ انھوں نے خود ساختہ طور پر یہ نظریہ پیش کیا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے جو اپنے قیام کے لیے لازماً حکومت چاہتا ہے۔ ہمارا یہ مذہبی فرض ہے کہ ہم اقتدار پر قابض حکمرانوں سے لڑ کر ان سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں اور اسلام پسند افراد کو حکومت کرنے کا موقع دیں۔ اس سیاسی نظریے کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام پسند جماعتوں اور اربابِ اقتدار کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ ارباب اقتدار نے اسلام پسند جماعتوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کیں۔ اربابِ اقتدار کی طرف سے یہ کارروائیاں اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے تھیں، نہ کہ اسلام یا مذہبِ اسلام کو مٹانے کے لیے۔
موجودہ زمانے کے نام نہاد اسلام پسندوں پر صحابی رسول عبداللہ بن عمر کے وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو انھوں نے اپنے زمانے میں اس قسم کے لوگوں کے بارے میں کہے تھے، یعنی اللہ نے تاریخ میں انقلاب برپا کر کے ایسے حالات پیدا کر دئے تھے کہ اہل اسلام کو اربابِ اقتدار کی مداخلت کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ اہل اسلام مذہب کی حقیقی تعلیمات پر کسی روک ٹوک کے بغیر آزادی کے ساتھ عمل کر سکیں۔ مگر اہل اسلام نے خود ساختہ طور پر اسلام کی سیاسی تعبیر کی ۔ وہ اربابِ اقتدار کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مذہبی تشدد دوبارہ تاریخ میں واپس آگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues