Al-Risala · July 2014 · page 27

با اصول زندگی

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۲۷

مذکورہ قسم کا ایڈ جسٹ مینٹ موجودہ دنیا کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی شخص یا گروہ کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر اصولی بنیاد پر ایڈ جسٹ مینٹ نہ کریں تو اُن کو مفاد کی بنیاد پر لازماً ایڈ جسٹ مینٹ کا معاملہ کرنا ہوگا۔ مگر ایسی صورت میں ان کا ایڈ جسٹ مینٹ عبادت کا عمل نہ ہوگا، بلکہ وہ صرف موقع پرستی (expediency) کا ایک معاملہ ہوگا، یعنی وہی چیز جس کو شریعت کی زبان میں منافقت (hypocrisy) کہا جاتا ہے۔ اصول پسندی، ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے، اس کے مقابلے میں، موقع پرستی ایک انتہائی بُری صفت۔ اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے— اخلاص، یا منافقت۔ مخلصانہ زندگی میں منافقت کا کوئی مقام نہیں۔ اسی طرح منافقانہ زندگی میں اخلاص کا کوئی درجہ نہیں۔ دعوتی مشن واحد مشن ہے جو آدمی کو اس معاملے میں منافقانہ روش سے بچاتا ہے۔ دعوتی مشن آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ ربانی مشن کی خاطر دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ بظاہر اگر چہ داعی بھی ایڈ جسٹ مینٹ کا معاملہ کرتا ہے، مگر اُس کا ایڈ جسٹ مینٹ اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ مفاد کی بنیاد پر۔

یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر دعوتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ مینٹ نہ کریں تو اُنھیں ذاتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ مینٹ کرنا پڑے گا۔ گویا کہ اگر وہ دوسروں کے درمیان مخلص بن کر نہ رہیں تو اُنھیں دوسروں کے درمیان منافق بن کر رہنا ہوگا، اور بلاشبہہ منافقانہ زندگی سے زیادہ بُری کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ بنگور میں ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر حسب ذیل پتے پر دستیاب ہے:

Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22239121, Mob. 09886243194 Email.: thecentreforpeace@gmail.com

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page