مسلمان عالمی محاصرے میں
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۲۸
مسلمان عالمی محاصرے میں
موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ مسلمان عالمی سطح پر زیر محاصرہ (under siege) ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ تمام قو میں مسلمانوں کی مخالف ہیں۔ تمام قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کر رکھی ہے۔ تمام قومیں متفقہ طور پر یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان دوبارہ ابھرنے نہ پائیں، چناں چہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر سطح پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ سوچ سرتاسر ایک بے بنیاد سوچ ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خود خالق کے نقشے کے مطابق، مسابقت (competition) اور چیلنج پر قائم ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس نظام کے بنا پر کوئی آگے بڑھتا ہے اور کوئی پیچھے ہو جاتا ہے، کوئی پانے والا بنتا ہے اور کوئی کھونے والا۔ یہ نظام اس لیے ہے تا کہ زندگی کی سرگرمیاں جاری رہیں، تا کہ ہر فرد اور ہر گروہ کو عمل کا محرک (incentive) ملتا رہے۔
فطرت کے اس نظام کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک گروہ اپنی کوشش کے ذریعے آگے بڑھ جاتا ہے اور وہ دوسرے گروہ کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی حالت میں پچھڑے ہوئے گروہ کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے، وہ کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کے لیے اپنی ساری توانائی خرچ کر دے۔ زندگی کو چیلنج سمجھنا آدمی کو نیا جذبہ عمل دیتا ہے۔ اس کے برعکس، سازش اور دشمنی کا نظریہ آدمی کو منفی نفسیات میں مبتلا کر کے اس کو زندگی کی دوڑ میں پیچھے ڈال دیتا ہے۔ موجودہ زمانے کی مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں چیلنج کو محاصرہ سمجھ لیا۔ اس طرح انھوں نے ایک مثبت واقعے کو خالص منفی رخ دے دیا۔ مسلمانوں کی یہی غلط سوچ ہے جس کی اصلاح میں ان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ زمانے کے مسلمان زوال کا شکار ہوئے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں وہ اپنی اصلاح کر کے دوبارہ عروج تک پہنچ سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues