جمہوریت کا دور
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۲۹
جمہوریت کا دور
1789 میں یورپ میں وہ سیاسی انقلاب آیا جس کو فرانسیسی انقلاب (French Revolution) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے بعد دنیا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوگئی، یعنی جمہوریت (democracy) کا دور۔ جمہوریت سے پہلے دنیا میں بادشاہت کا دور تھا، یعنی شخصی حکمرانی کا دور۔ اُس زمانے کی سیاسی مساوات (political equation) حاکم اور محکوم (ruler and ruled) کے اصول پر قائم تھی، لیکن جمہوریت کے دور میں یہ سیاسی مساوات ختم ہوگئی۔ جمہوریت کے نظام میں نہ کوئی حاکم ہوتا ہے اور نہ کوئی محکوم۔ اب حکومت کو عملاً حکومت نہیں کہا جاتا، بلکہ اس کو صرف انتظامیہ (administration) کہا جاتا ہے۔ کوئی انتظامیہ مستقل نہیں ہوتی، ہر چند سال کے بعد الیکشن کی بنیاد پر انتظامیہ بدلتی رہتی ہے۔
موجودہ زمانے کی جمہوریت سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے۔ اس اصول کے تحت موجودہ زمانے میں مذہبی امور کو مذہبی افراد یا مذہبی تنظیموں کے دائرے کا معاملہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اُن کو آزادی ہے کہ وہ اپنے مذہبی معاملات کا انتظام جس طرح چاہیں کریں، صرف اس شرط پر کہ وہ دوسروں کے ساتھ مداخلت یا تشدد کا معاملہ نہیں کریں گے۔
جمہوری نظام میں حکومت کا تعلق صرف مشترک قومی امور سے ہوتا ہے۔ مثلاً اقتصادیات، شہری پلاننگ، انفراسٹرکچر، وغیرہ۔ جمہوریت کا یہ نظام مذہبی گروہوں کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ مذہبی گروہ اگر مذہب کے دائرے میں رہے، وہ نزاعی سیاست کو اُس میں شامل نہ کرے، تو وہ ہر حال میں آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کر سکتا ہے۔ خواہ الیکشن میں کوئی ایک پارٹی جیتے یا دوسری پارٹی، انتظامی اعتبار سے وقتی طور پر کوئی ایک پارٹی اقتدار میں آئے یا دوسری پارٹی۔ جمہوریت کے زمانے میں اگر کوئی مذہبی گروہ کسی پرابلم سے دوچار ہوتا ہے تو وہ یقینی طور پر صرف ’’آبیل مجھے مار‘‘ کی ناعاقبت اندیشانہ سیاست کا نتیجہ ہوگا، نہ کہ خود جمہوری نظام کا نتیجہ۔ (16 مئی 2014)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues