دورِ آخر کے دُعاۃ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اس قرآن کے ذریعے سے اپنے معاصرین کو آگاہ کرے اور بعد کے زمانے میں پیغمبر کے ماننے والے اگلی نسلوں کو ہر دور میں اُس سے آگاہ کرتے رہیں۔ دعوت کا یہ عمل مسلسل طور پر قیامت تک جاری رہے گا۔ دعوت الی اللہ کی اس عالمی تکمیل کا ذکر ایک حدیث رسول (لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام) میں زیادہ واضح طور پر آیا ہے۔ دعوت الی اللہ کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی ذرائع مواصلات درکار تھے، جو کہ ساتویں صدی عیسوی میں قابل حصول نہ تھے۔ اس لیے دعوت الی اللہ کی تکمیل کو مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی حیثیت سے بطور پیشین گوئی (prediction) بیان کیا گیا ہے۔
دورِ آخر کے دُعاۃ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عبادلیسوا بأنبیاء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة (مسند احمد: 5/341) یعنی اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ شہید، مگر قیامت کے دن انبیا اور شہدا بھی اُن پر رشک کریں گے، اللہ سے اُن کے قرب کی بنا پر۔
اس حدیث رسول میں غبطة (envy) کا لفظ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے، یعنی اس کا مقصد مذکورہ افراد کی پر اسرار فضیلت بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل تحیر خیز پسندیدگی (wondrous appreciation) کے معنی میں ہے، یعنی وہ لوگ اگر چہ پیغمبر کے امتی ہوں گے، لیکن پیغمبر کی ہدایت کا اتباع کرتے ہوئے اُن کے ذریعے کچھ ایسے کام انجام پائیں گے جو پچھلی پوری تاریخ نبوت میں انجام نہیں پایا تھا۔
یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں، غور کر کے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین خداوندی میں جو چیز مطلوب ہیں، وہ بہ تمام و کمال وجود میں آچکی ہیں ۔ وحی الہی کے ذریعے آئی ہوئی ہدایت کا پوری طرح محفوظ ہو جانا، پیغمبر کی صورت میں انسان کی زندگی کا ایک رول ماڈل (role model) تیار ہو جانا، دین خداوندی کی تاریخ کا ایک مستند ریکارڈ وجود میں آجانا، مذہبی جبر کا ہمیشہ کے لیے ختم
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues