ٹیم اسپرٹ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
ہو جانا، دور بادشاہت میں ہر چیز پر شخصی کنٹرول قائم تھا، اس کا ختم ہو کر دور جمہوریت آ جانا، جب کہ انسانی سرگرمیوں کے تمام مواقع پوری طرح کھل گئے، وغیرہ۔ پیغمبرانہ مشن کے تحت یہ تمام چیزیں مطلوب تھیں جو کہ مکمل طور پر حاصل ہو گئیں۔
مگر ایک مطلوب ایسا تھا جو پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کی تاریخ کے دوران پوری طرح حاصل نہیں ہوا تھا، اور وہ ہے دعوتِ خداوندی کی عالمی اشاعت۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لیے بھیجی ہے، تا کہ وہ تمام اہل عالم تک پہنچے اور تمام لوگوں کے لیے آگاہی کا ذریعہ بنے (25:1)۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرانہ تاریخ کے دور میں یہ عالمی مطلوب پوری طرح واقعہ نہ سکا۔ اس کا فطری سبب یہ تھا کہ دین کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی مواصلات کی ضرورت ہے، اور عالمی مواصلات کے یہ ذرائع پچھلے زمانے میں موجود ہی نہ تھے۔
اس پہلو سے غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مذکورہ حدیثِ رسول میں جن خوش قسمت لوگوں کا ذکر ہے، وہ سچے اہل ایمان کی وہ جماعت ہے جو دورِ مواصلات میں دینِ خداوندی کے اس دعوتی نشانے کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچائے گی کہ اُس سے روئے زمین پر بسنے والے تمام مرد اور عورت باخبر ہو جائیں۔ قیامت میں کوئی فرد یا گروہ ایسا نہ رہے کہ جو جائز طور پر یہ کہہ سکے کہ: إنا كنا عن هذا غافلين (7:172)۔ تاریخ انسانی کے دورِ آخر میں اللہ کی توفیق سے جو اہل ایمان اس دعوتی نشانے کو پورا کریں گے، وہی غالباً وہ لوگ ہیں جن کا ذکر مذکورہ حدیثِ رسول میں کیا گیا ہے۔
ٹیم اسپرٹ
وہ گروہ جس کو آخرت میں قربِ خداوندی کی نسبت سے اتنا بڑا درجہ ملے گا کہ انبیا اور شہدا بھی اُن پر رشک کریں گے، ان کی وہ صفتِ خاص کیا ہوگی جو اُن کو قربت کے اس مقام تک پہنچائے گی ۔ اس صفت کا ذکر مذکورہ حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آیا ہے: المتحابون في (اللہ کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے)۔ اس حدیثِ رسول میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کی ذات سے محبت کرنے والے، بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues