اپنے آپ پر نظر ثانی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۴۱
سوال و جواب سوال میں الرسالہ کا ایک مستقل قاری ہوں۔ اسی کے ساتھ میں آپ کے لکچر بھی سنتا ہوں۔ مجھے الرسالہ کی دعوتی سوچ سے اتفاق ہے۔ اس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ مل رہا ہے۔ دو چیزوں کی وضاحت مطلوب ہے۔ ایک الرسالہ کے حسب ذیل دواقتباسات کی وضاحت، جس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ اعتدال کو کس طرح مانتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے لکچر میں بار بار میں نے سنا ہے کہ دوسرے علما نے کچھ نہیں کیا، وہ سب ٹکراؤ اور تشدد میں لگے رہے، اس کی وضاحت۔ (محمد حارث، پاکستان) جواب 1- اکثر لوگ اعتدال اور توسط کی بات کرتے ہیں، مگر اعتدال اور توسط اپنے آپ میں کوئی اصول نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے معاملات میں صرف دو نقطہ نظر ہیں۔ معیاری نقطہ نظر، اور عملی نقطہ نظر ۔ جہاں تک’’ معتدل نقطہ نظر ‘‘ کا تعلق ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی اصول نہیں۔ معیاری نقطہ نظر (idealism) وہ ہے جو خالص اصول پر مبنی ہو، جو ابدی طور پر ایک ہی مستند اصول کے طور پر قائم رہے ۔ مثلاً سچ بولنا ایک ابدی اصول ہے، اصول کے اعتبار سے وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔ عملی نقطہ نظر (pragmatism) سے مراد وہ طریقہ ہے جس میں نتائج کو ملحوظ رکھا گیا ہو، جو خالص اصول پر مبنی نہ ہو، بلکہ وہ عملی پہلوؤں کی رعایت پر مبنی ہو۔ زندگی کے معاملات میں کوئی موقف اختیار کرنے کے لیے اعتدال اور توسط کوئی معیار (yardstick) نہیں ہے۔ یہ معیار صرف دو ہے ایک، یہ کہ خالص اصولی طور پر جو نقطہ نظر درست ہو، اس کو اختیار کرنا۔ یہ آئیڈیل ازم (idealism) ہے۔ خالص ذاتی معاملات میں آئیڈیل ازم پوری طرح قابلِ عمل ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں خالص ذاتی معاملہ ہو، وہاں آدمی کو وہی کرنا چاہیے جو آئیڈیل ازم کا تقاضا ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں معاملہ ففٹی ففٹی ہو جاتا ہے، یعنی پچاس فی صد آدمی کی اپنی سوچ، اور پچاس فی صد دوسرے متعلق افراد کی سوچ۔ عملی نقطہ نظر (pragmatism) کا لفظ زندگی کے اسی دوسرے دائرے کے بارے میں بولا جاتا ہے۔ ‘‘
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues