اپنے آپ پر نظر ثانی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۴۲
2- اسی طرح آپ نے ایک اور جگہ لکھا ہے کہ: ’’ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کرنا چاہے تو ہمیشہ وہ حالات پر پوری نظر رکھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کر کے دوسرے پہلو کی طرف بہت زیادہ جھک جائے۔ وہ ایسا بھی نہ کرے کہ وہ اپنا زیادہ اندازہ (overestimation) کرے اور حالات کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے لگے۔ اس قسم کی کوئی بھی غلطی اس کے منصوبے کو نا کام بنانے کے لیے کافی ہے۔ آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انتہا پسند مخلوق ہے۔ آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ایک پہلو کی طرف اس طرح جھک جاتا ہے کہ وہ دوسرے پہلو کی رعایت کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اس قسم کے عدم توازن کے ساتھ کسی شخص کا اس دنیا میں کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ توازن بلاشبہ ایک اہم اصول ہے، لیکن توازن سے مراد عملی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا ہے، نہ کہ فکری اور نظریاتی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا۔ نظری معاملات میں آدمی کا نشانہ آڈیل ہونا چاہیے، لیکن عملی معاملات میں اس کو پریکٹکل بن جانا چاہیے‘‘۔ (ماہنامہ الرسالہ، اگست 2013، صفحہ 40)
جواب
1- قصد و اعتدال بلا شبہ اسلام میں مطلوب ہے۔ قصد و اعتدال اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔ اُس کا تعلق صرف انفرادی معاملات سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی معاملات اور ملی پالیسی سے بھی ہے۔ قصد و اعتدال کی اہمیت رسول اور اصحابِ رسول کی سنت سے ثابت ہے۔ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔
قصد و اعتدال کا مطلب توسط یا میانہ روی (moderation) ہے، یعنی معاملات میں درمیانی طریقہ (middle course) اختیار کرنا۔ قصد و اعتدال کا تعلق در اصل اجتماعی زندگی سے ہے، خواہ وہ عبادتی معاملہ ہو یا غیر عبادتی معاملہ۔ دوسرے الفاظ میں اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues