قرآن: کتابِ فطرت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲
قرآن: کتابِ فطرت
قرآن کا مقصد نزول کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی ایک ابتدائی آیت میں موجود ہے۔ سورہ البقرہ کی پہلی آیت یہ ہے: ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ (2:2) یعنی یہ الکتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
قرآن کی اس آیت میں کتاب کے ساتھ ’الف لام‘ استعمال ہوا ہے، عربی قاعدہ کے مطابق، یہاں الکتاب میں (الف لام) عہد کا ہے، یعنی اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ یہ وہی کتاب معہود (Promised Book) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت جس رہنما کتاب کا تقاضا کر رہی تھی، قرآن وہی رہنما کتاب ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے جن سوالات کا جواب چاہتا تھا، اُن سوالات کا جواب اس کتاب میں دیا گیا ہے۔ قرآن میں فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي ھُدًى (2:38) کے الفاظ میں اِسی کتاب ہدایت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے، ایک متلاشی حق حیوان ہے۔ ہر انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کا مقصدِ حیات (purpose of life) کیا ہے۔ زندگی کیا ہے اور موت کیا ہے۔ انسان کے لیے ابدی سعادت کی صراطِ مستقیم کیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کے دل میں یہ سوالات ہوتے ہیں، خواہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کرے یا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے آغاز ہی سے اس کا انتظام کیا۔ بار بار تاریخ میں ایسے پیغمبر آئے جو اس سلسلے میں انسان کو اللہ کا کلام پہنچاتے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں کے ذریعے جو کلام الہی انسان کے پاس اللہ نے بھیجا تھا، بعد کو وہ اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہا۔ اس کے بعد اللہ نے یہ کیا کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اس نے اپنی آخری کتاب قرآن نازل فرمائی اور یہ بھی فیصلہ کر دیا کہ یہ کتاب قیامت تک اپنی اصل حالت میں محفوظ رہے، تاکہ دوبارہ کسی نئے پیغمبر یا نئی کتاب کی ضرورت پیش نہ آئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues