قرآن: کتابِ فطرت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳
قرآن کو ابدی کتاب ہدایت کی حیثیت سے محفوظ کرنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ ایسی جامع منصوبہ بندی کی جائے جو اسباب کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلی معنوں میں قرآن کی ابدی حفاظت کی ضامن بن جائے۔ اگر قرآن کامل معنوں میں محفوظ نہ رہے تو انسان کے لیے اس کی اہمیت مشتبہ ہو جائے گی۔
1- اس مقصد کے لیے پہلی ضرورت یہ تھی کہ عربی زبان جو کہ قرآن کی زبان ہے، وہ قیامت تک ایک زندہ زبان (living language) کی حیثیت سے باقی رہے۔ چناں چہ عربی زبان کے حق میں یہ واقعہ پوری طرح پیش آیا۔ زبانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ چند سو سال کے بعد زبان اتنا زیادہ بدل جاتی ہے کہ بعد کے لوگ قدیم زبان کو سمجھ نہیں پاتے، مگر عربی زبان تمام معلوم زبانوں میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتی ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں جو عربی زبان رائج تھی اور جس میں قرآن اتارا گیا، وہ عربی زبان آج بھی اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔ عربی زبان کی گریمراور اس کی لغات آج بھی وہی ہیں جو پہلے تھیں۔ علم الالسنہ کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ عربی زبان کی یہ صفت تمام زبانوں میں ایک استثنا ہے۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ کو قرآن کو محفوظ رکھنا تھا، اس لیے اُس نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کی زبان بھی کامل طور پر محفوظ رہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘، صفحہ: 181-169)۔
2- یہی معاملہ قرآن کے متن (text) کا ہے۔ اس معاملے میں بھی اللہ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن عربی کا متن کسی ادنیٰ تغیر کے بغیر پوری طرح محفوظ رہے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں تمام صحابہ کے اتفاق سے زید بن ثابت انصاری نے قرآن کا جو مکتوب نسخہ (written version) تیار کیا تھا، بعد کے زمانے میں قرآن کے جو نسخے تیار کیے گئے، وہ اسی اولین نسخے کی کامل نقل تھے۔ حفاظت متن کا یہ سلسلہ اعلیٰ اہتمام کے ساتھ تاریخ میں مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ آج قرآن کے مطبوعہ نسخے دنیا بھر میں بے شمار مدرسوں، مسجدوں، گھروں اور لائبریریوں میں موجود ہیں۔ یہ سب مطبوعہ نسخے زید بن ثابت انصاری کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues