Al-Risala · January 2014 · page

تائیدی انفراسٹرکچر

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

انفراسٹرکچر کا فائدہ حاصل ہوتا تھا، اور وہ تھا پوٹکل انفراسٹرکچر، یعنی سیاسی اقتدار کی سرپرستی حاصل ہونا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو انبیا آئے، اُن کو سیاسی اقتدار کی سرپرستی حاصل نہ تھی، اس لیے اُن کے زمانے میں دعوتِ خداوندی کو استحکام کا درجہ بھی نہ مل سکا ۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے اللہ تعالی نے تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس کے نتیجے میں خود اہل اسلام کا سیاسی اقتدار قائم ہو گیا اور اس طرح دعوت الی اللہ کے کام کے لیے سیاسی اقتدار کی سطح پر وہ تائیدی انفراسٹرکچر قائم ہوا جو کہ دعوتی مشن کے لیے مطلوب تھا۔

لیکن اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، سیاسی اقتدار کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہو سکتا، اس لیے فطری طور پر ایسا ہونا تھا کہ یہ سیاسی سرپرستی ابدی طور پر قائم نہ رہے۔ اس لیے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا۔ اس انقلاب کو جمہوری انقلاب (democratic revolution) کہا جاتا ہے۔ قانون فطرت کے مطابق، جمہوری انقلاب ایک تاریخی عمل کے تحت وجود میں آیا۔ اس عمل کا نقطہ انتہا انقلاب فرانس ہے۔ جمہوری انقلاب محدود معنوں میں صرف ایک سیاسی ڈھانچے کی تبدیلی کے ہم معنی نہ تھا، بلکہ اپنے اثرات کے اعتبار سے، وہ ایک مکمل انقلاب (total revolution) تھا۔ اس کے نتیجے میں آخر کار تاریخ میں ایک نیا دور وجود میں آیا۔ اس دور میں تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ زندگی کے تمام مواقع ہر انسان کے لیے یکساں طور پر کھل گئے۔ فرد کی آزادی کو خیر اعلیٰ کا درجہ حاصل ہو گیا، ہر انسان کا یہ غیر مشروط حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ پرامن رہتے ہوئے جو چاہے کرے۔

انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جمہوریت (democracy) ایک مسلمہ عالمی اصول (universal norm) بن گئی۔ دعوت الی اللہ کے مشن کے لیے دور جمہوریت بہت زیادہ با معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دعوتی مشن کے لیے جو تائیدی انفراسٹرکچر درکار ہے، اس کے لیے اب مسلم اقتدار کی ضرورت نہیں۔ اب خود عالمی نظام زیادہ بہتر طور پر وہ تائیدی انفراسٹرکچر فراہم کر رہا ہے جو دعوت الی اللہ کے عالمی مشن کے لیے مطلوب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page