Al-Risala · January 2014 · page

تائیدی انفراسٹرکچر

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

ہے کہ ٹیم کے افراد بنیان مرصوص (61:4) کی طرح باہم جڑے رہیں۔ کوئی بھی شکایت اُن کی ٹیم اسپرٹ میں خلل ڈالنے والی نہ ہو۔

اس معاملے کی ایک مثبت مثال وہ ہے، جو خالد بن الولید کے حوالے سے اوپر بیان کی گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ایک متقابل مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔ یہ مثال سعد بن عبادہ الانصاری کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔ سعد بن عبادہ انصاری کو اس پر اختلاف ہوا۔ وہ مدینے کے بڑے سرداروں میں سے تھے۔ ان کی شکایت ایک سیاسی شکایت تھی۔ یہ شکایت اتنی بڑھی کہ انھوں نے حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت پر بیعت نہیں کی۔ انھوں نے کبھی اپنی رائے سے رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ اصحاب رسول کی جماعت سے الگ ہو کر شام چلے گئے اور وہیں 14 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ٹیم ورک کے اندر لازمی طور پر آپس میں شکایت اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ٹیم ورک کی کامیابی کی شرط صرف یہ ہے کہ ٹیم کے افراد کے اندر یہ ناقابل شکست عزم پایا جاتا ہو کہ وہ کسی بھی عذر کو عذر نہیں بنائیں گے، وہ اللہ کی خاطر ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے ساتھ جڑے رہیں گے۔ اللہ کے کاز کے لیے آپس میں محبت کرنے والے شکایت کا کوئی منفی اثر نہیں لیں گے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے اندر یہ صفت نہ ہو، وہ شکایت سے بددل ہو کر ٹیم سے دور ہو جائیں گے۔ دینِ خداوندی کے دو تقاضے اسلام کا اصل خارجی نشانہ دعوت الی اللہ ہے۔ اہلِ اسلام کا یہی ابدی مشن ہے کہ وہ پُرامن طور پر اللہ کے دین کا پیغام ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ اس دعوتی مشن کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے— تائیدی انفراسٹرکچر(supporting infrastructure) اور توجیہی لٹریچر(explanatory literature)۔

تائیدی انفراسٹرکچر

قدیم زمانہ بادشاہت کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں صرف ایک چیز تھی جس سے تائیدی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page