نجاتِ فرد، حفاظتِ دین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۸
اسی طرح قرآن کے مطابق، بندے کی ایک عبادت صوم ہے۔ صوم کی اصل حقیقت یہ ہے کہ بندہ عمل کی زبان میں یہ بتاتا ہے کہ وہ اللہ کے لیے (for the sake of God) اپنی بنیادی ضرورت تک کو چھوڑ سکتا ہے۔ یہ بندے کی طرف سے اپنے رب کے لیے وفاداری کا آخری مظاہرہ ہے جو کہ بندے کے مقامِ عبدیت کو بہت زیادہ بڑھانے والا ہے۔ لیکن اہلِ قرآن کا گروپ روزہ (fasting) کے بجائے صوم کا مطلب یہ بتاتا ہے کہ اس سے مراد دنیوی زندگی میں قوانینِ خداوندی کی خلاف ورزی سے بچنا ہے۔ یہ خود ساختہ تعبیر مومن کو اُس عظیم روحانی تجربے سے محروم کرنے والی ہے جس کو قرآن میں دعاء قربت (2:186) کہا گیا ہے۔
یہی معاملہ دوسری عبادات کا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے کچھ مسلم اہلِ فکر نے اسلام کی مبنی بر نظام تعبیر (system-based interpretation) پیش کی، جب کہ اسلام کی ربانی تعبیر ہی اس کی صحیح تعبیر ہے۔ اہلِ قرآن گروپ کا کیس یہ ہے کہ وہ اسلام کی مبنی بر نظام تعبیر سے متاثر ہوا، اور اس میں اپنی طرف سے مزید اضافہ کر کے اس کے بگاڑ کو اس کی آخری حد تک پہنچا دیا۔
قرآن کا اصل مدعا وہی ہے جس کو قرآن کی پہلی آیت میں بیان کیا گیا ہے، یعنی الحمد للہ رب العالمین۔ یہی قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ قرآن کا مدعا یہ ہے کہ انسان رب العالمین کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرے، وہ ایک ربانی انسان بن جائے۔ اس کی شخصیت میں وہ انقلاب آئے جب کہ وہ پورے معنوں میں حمد اسپرٹ میں جینے لگے۔
یہی قرآنی تعلیمات کا حاصل (gist) ہے۔ جب ایک انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہوتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر اس کی زندگی میں تزکیہ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کی یاد میں جینے لگتا ہے، وہ اللہ کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ اس کے سوچنے اور اس کے بولنے پر اللہ کا رنگ چھا جاتا ہے، اس کے اخلاق اور اس کے معاملات اللہ کی مرضی کے تابع بن جاتے ہیں، اس کی پوری زندگی اس حقیقت کا اظہار بن جاتی ہے کہ اس کو اللہ کے سامنے اپنے تمام
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues