نجاتِ فرد، حفاظتِ دین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۷
دین اسلام کی بنیاد ایمان پر ہے۔ ایمان سے مراد وہ معرفت ہے جو آدمی کے اندر اپنے خالق کے بارے میں یقین و اعتماد کی کیفیت پیدا کرے، مگر ان حضرات کا کہنا ہے کہ ایمان سے مراد امن ہے، یعنی دنیوی زندگی میں ایک پر امن معاشرہ (peaceful society) بنانا۔ ایمان کا یہ تصور نہ صرف غیر علمی ہے، بلکہ وہ انسان سے سب سے بڑی چیز چھین لینے والا ہے، اور وہ تعلق باللہ (communion with God) ہے۔
اسی طرح قرآن میں بار بار اللہ کے لیے رب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ رب کا عقیدہ اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے جو انسان کے اندر وہ سب سے بڑی صفت پیدا کرتا ہے جس کو قرآن میں حمد کہا گیا ہے۔ حمد اسپرٹ بلا شبہ مومن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ لیکن اہل قرآن کا گروپ رب کے لفظ کی تعبیر زمین پر قائم کیے جانے والے نظام ربوبیت سے کرتا ہے جو کہ عملاً اشتراک کی نظام کے ہم معنی ہے۔ یہ نظریہ مومن سے اس کے اُس عقیدے کو چھین لینے والا ہے جو کہ بلاشبہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
اسی طرح تقویٰ اور خشوع جیسے الفاظ کا معاملہ ہے۔ یہ الفاظ مومن کی اُس داخلی شخصیت کو بتاتے ہیں جس کو قرآن میں ربانیت (3:79) کہا گیا ہے۔ یہ اُس انسان کی اعلیٰ ترین صفت ہے جس کو اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل ہو جائے۔ لیکن اہل قرآن کا گروپ اس قسم کے الفاظ کی یہ خود ساختہ تعبیر کرتا ہے کہ اس سے مراد دنیوی زندگی میں خدا کے قانون کی خلاف ورزی کے برے نتائج سے بچنا ہے۔
یہی معاملہ عبادات کا ہے۔ قرآن کے مطابق، صلوۃ ایک نہایت اہم عبادت ہے۔ صلوۃ انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے۔ انسان جب حالت صلوٰۃ میں ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اللہ کے پڑوس میں پہنچ گیا ہے۔ لیکن اہل قرآن کا گروپ خود ساختہ طور پر یہ بتاتا ہے کہ صلوۃ کا مطلب دنیا کی زندگی میں اجتماعی قوانین کی پابندی ہے۔ اس طرح یہ نظریہ بندے اور خدا کے درمیان اُس اعلیٰ تعلق کو ختم کر دیتا ہے جس کو قرآن میں حب شدید (2:165) کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues