Al-Risala · August 2014 · page 40

پیغمبر کی اہمیت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۰

میری گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، لیکن قرآن کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو دوسری تمام چیزوں سے الگ (detach) کرکے دیکھا جائے، تاریخ کو، حدیث کو، تفسیر کو، حتی کہ خود محمد کو بھی حذف کرکے دیکھا جائے، تب قرآن سمجھ میں آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ قرآن کو صرف قرآن کے ذریعے سمجھنا ہے، نہ کہ کسی اور چیز کے ذریعے۔ یہ بات بظاہر گریمر کے لحاظ سے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حذف کرنے کے بعد خود قرآن کو حذف کرنا پڑے گا، کیوں کہ قرآن ہمارے پاس براہ راست نہیں آیا، بلکہ اُس انسان کے ذریعے آیا جس کا نام محمد بن عبداللہ تھا، جو 570 میں مکہ میں پیدا ہوا اور 632 میں جس کی مدینے میں وفات ہوئی۔ اس انسان کی قبر اب بھی اس کی تاریخی یادگار کے طور پر مدینے میں موجود ہے۔ عرب میں پیدا ہونے والے اس انسان نے جب کہا کہ یہ قرآن ہے جو وحی کے ذریعے مجھ پر نازل ہوا ہے، اس کے بعد ہی قرآن قرآن بنا۔ اگر اس انسان نے ایسا نہ کہا ہوتا تو قرآن کو قرآن سمجھنے کے لیے ہمارے پاس کوئی بنیاد ہی موجود نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد بن عبداللہ کو ماننا ہی ہم کو قرآن کو ماننے کے لیے نقطہ آغاز دیتا ہے۔ اس معاملے میں اگر ہم محمد بن عبداللہ کو حذف کریں تو اس سے پہلے خود قرآن حذف ہو چکا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہم اس قسم کے قول کا تحمل نہیں کر سکتے۔

پھر یہ بات محمد بن عبداللہ پر ختم نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ محمد بن عبداللہ کے ظہور کے چودہ سو سال بعد جو قرآن ہمارے پاس موجود ہے، وہ ہم کو کیسے ملا۔ وہ اس طرح ملا کہ رسول کے اصحاب نے محمد بن عبداللہ کی زندگی میں براہ راست طور پر اُن سے قرآن کو سنا اور اس کو حفظ و کتابت کے ذریعے محفوظ کر دیا۔ اس کے بعد تابعین کے گروہ نے اصحاب رسول سے اُس کو براہ راست طور پر سنا اور پھر حفظ و کتابت کے ذریعے اس کو محفوظ کر لیا۔ یہی کام دوبارہ تبع تابعین کے گروہ نے کیا۔ اس کے بعد یہی طریقہ مسلسل طور پر نسل در نسل جاری رہا اور اب تک جاری ہے۔ انیسویں صدی میں مزید یہ ہوا کہ قرآن کو پرنٹنگ پریس میں چھاپا گیا اور اس کے مطبوعہ نسخے ساری دنیا میں پھیلا دیے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page