Al-Risala · August 2014 · page 41

پیغمبر کی اہمیت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۱

قرآن کے معاملے میں اللہ کی حیثیت منزل کتاب کی ہے اور رسول کی حیثیت راوی کتاب کی اور امت کی حیثیت ناشر کتاب کی۔ یہ ایک طویل تاریخی سلسلہ ہے۔ اس تاریخی سلسلے نے قرآن کو آخری حد تک محفوظ اور مستند کتاب بنا دیا ہے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اللہ نے محمد بن عبد اللہ کو قرآن کا مہبط بنایا۔ یہ بلاشبہ روبوٹ (robot) جیسا کوئی معاملہ نہ تھا۔ قرآن کے مطابق ، اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ قرآن سارے انسانوں تک قابل فہم انداز میں پہنچے۔ اس مصلحت کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ اللہ ایسے انسان کو قرآن کا مہبط بنائے جو خود قرآن کو درست طور پر سمجھے اور اس کو درست طور پر دوسروں تک منتقل کرے۔

اس حکمت کے لازمی تقاضے کے طور پر سنت وجود میں آئی۔ سنت گویا صاحب قرآن کی زبان سے قرآن کی مستند تفہیم و تشریح ہے۔ جس طرح محمد بن عبد اللہ کو حذف کرنے سے قرآن حذف ہو جاتا ہے، اسی طرح سنت کو حذف کرنے سے قرآن کی مستند تفہیم و تشریح حذف ہو جاتی ہے اور جب قرآن اور اس کی مستند شرح دونوں حذف ہو جائیں تو اس کے بعد علمی اعتبار سے، انسان کے پاس کوئی مستند بنیاد باقی نہیں رہتی جس پر وہ حقیقت حیات کو جاننے کے لیے اعتماد کر سکے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جس طرح قرآن ایک تسلسل کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، اُسی طرح قرآن کی پیغمبرانہ تفہیم و تشریح بھی سنت کی شکل میں ایک قابل اعتماد تسلسل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے، خالص علمی اور تاریخی اعتبار سے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ قرآن دینِ اسلام کی واحد مستند کتاب ہے۔ لیکن قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں دین کے صرف اساسی اصول (fundamentals) بیان ہوئے ہیں۔ قرآن میں کسی بھی حکم کی تفصیل (detail) موجود نہیں۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ احکامِ قرآن کی تفصیل بھی موجود ہو، کیوں کہ انسان جیسی مخلوق کے لیے کسی حکم کی تفصیل جانے بغیر اس پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ سنت کی حیثیت قرآن کے احکام کی اسی تفصیل اور تبیین کی ہے۔

اِسی کے ساتھ یہ بھی ایک معلوم بات ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے۔ اس لیے ہر دور میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page