دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۵
دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت یہ ہے: مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (3:67) یعنی ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی، بلکہ وہ حنیف مسلم تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔
قرآن کی اس آیت کا مقصد حضرت ابراہیم کی براءت نہیں ہے، یعنی اس کا مقصد یہ بتانا نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم یہودی یا نصرانی یا مشرک نہ تھے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہودی، نصرانی یا مشرک، تینوں گروہ جو حضرت ابراہیم کو اپنے اکابر میں شمار کرتے تھے اور یہ کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں، اُن کا ایسا سمجھنا ہرگز درست نہیں۔
اپنے دورِ زوال میں انھوں نے یہ کیا کہ خود ساختہ طور پر اپنے مذہب کا ایک ماڈل بنا لیا۔ وہ در حقیقت اپنے خود ساختہ مذہبی ماڈل پر قائم تھے، لیکن غلط طور پر وہ اس کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کیے ہوئے تھے۔ اس طرح غلط انتساب کے ذریعے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ جس مذہب پر ہیں، وہ وہی مذہب ہے جو اپنے زمانے میں حضرت ابراہیم کا مذہب تھا۔
کسی امت پر جب زوال کا دور آتا ہے تو اس کے اندر ہمیشہ یہی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ اس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلم امت کا بھی یہی حال ہوا ہے۔ انھوں نے خدا کے دین کا ایک خود ساختہ ایڈیشن تیار کیا ہوا ہے۔
یہ ماڈل ایک قومی ماڈل ہے، نہ کہ پیغمبرانہ ماڈل۔ صرف لفظی انتساب کے ذریعے وہ اس ماڈل کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کیے ہوئے ہیں، حالاں کہ اُن کے اس قومی ماڈل کا پیغمبر کے ماڈل سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی امت کے اندر بعد کے زمانے میں یہ مزاج اپنی قومی روش کی تبریر (justification) کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس لیے پیدا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی قومی روش کو عین پیغمبرانہ روش ثابت کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues