Al-Risala · September 2014 · page 6

دلیل، الزام تراشی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۶

دلیل، الزام تراشی

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس نے انحراف کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے بعد خدا اور ابلیس کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس مکالمے کے دوران ابلیس نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی: قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (15:39) یعنی ابلیس نے کہا کہ اے میرے رب، تو نے مجھے بہکایا۔ قرآن کی اس آیت میں اِغوا کا لفظ ہے۔ اِغوا کا مطلب ہے بہکانا (to mislead, to misguide)۔ ابلیس نے خدا کی نسبت سے جو بات کہی، وہ بلا شبہ ایک جھوٹا الزام تھا، وہ کوئی ثابت شدہ دلیل نہ تھی۔ اس مثال سے ابلیس یا شیطان کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اختلاف کے وقت اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے دلیل نہ دینا، بلکہ فریق ثانی پر جھوٹ باندھنا اور اِس پر الزام لگانا۔ اس طریقے کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور وہ یہ اعتراف بھی نہیں کرنا چاہتا کہ فریق ثانی کا موقف صحیح ہے اور اس کا اپنا موقف غلط۔ اس لیے وہ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ وہ الزام تراشی (allegation) کا طریقہ اختیار کر کے غلط طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کی مخالفت درست ہے۔

یہ طریقہ بلا شبہ شیطان کا طریقہ ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ قرآن کے الفاظ میں، شیطان کے بھائی (إخوان الشياطين) قرار پائیں گے۔ جب بھی آپ کو کسی سے اختلاف ہو تو آپ کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ مسلمہ دلائل کے ذریعے اپنے موقف کو واضح کریں۔ اس کے برعکس، اگر آپ ایسا کریں کہ دلیل سے اپنے موقف کو ثابت نہ کر سکیں اور جھوٹے الزام لگا کر فریق ثانی کو بد نام کریں تو یہ ایک بے حد خطر ناک پوزیشن ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں شدید اندیشہ ہے کہ آپ اللہ کے یہاں شیطان کے بھائی قرار پائیں اور اللہ کی رحمتوں سے آپ کو محروم کر دیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page