توکلہ‘‘ کی حقیقت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۷
توکلہ‘‘ کی حقیقت
قرآن کی سورہ الطلاق میں تو کل کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ومن يتوكل على الله فهو حسبه (65:3) یعنی جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا، اللہ اُس کے لیے کافی ہے۔ توکل علی اللہ اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم ہے۔ مگر تو کل علی اللہ کیا ہے، یہ بظاہر ایک مبہم بات نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کے مطالعے سے اس معاملے کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے۔ حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: لو أنكم توكّلون على الله حق توكله، لرزقكم كما يرزق الطير، تغدوا خماصا وتروح بطانا (الترمذي، رقم الحديث: 2344) یعنی عمر بن الخطاب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے، تو اللہ تم کو اُسی طرح رزق دے گا جس طرح وہ چڑیا کو رزق دیتا ہے۔ چڑیا خالی پیٹ نکلتی ہے اور بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتی ہے۔
حدیث میں تو کل کے ساتھ حق توکل کا اضافہ ہے۔ حق تو کل سے مراد شرائط توکل ہے۔ اس کی وضاحت چڑیا کی مثال سے ہوتی ہے۔ چڑیا ایسا نہیں کرتی کہ وہ بھروسہ کرتے ہوئے اپنے گھونسلے میں بیٹھی رہے، بلکہ چڑیا ایسا کرتی ہے کہ وہ سوچتی ہے۔ وہ منصوبہ بناتی ہے۔ وہ اپنی آنکھ سے دیکھتی ہے اور اپنے پروں سے اڑتی ہے۔ اس طرح وہ اُس مقام پر پہنچتی ہے جہاں فطری طور پر اُس کا رزق موجود ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ چڑیا جب اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کرتی ہے، اپنی عقل اور سمجھ سے بھر پور طور پر کام لیتے ہوئے مبنی بر فطرت منصوبہ بناتی ہے اور اس کے لیے اپنی حاصل شدہ توانائی خرچ کرتی ہے، تو اُس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا سے اُس کو وہ رزق ملے جو خالق نے اُس کے لیے مقدر کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues