Al-Risala · September 2014 · page 9

آبا پرستی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۹

آبا پرستی

پچھلے زمانے کی منکر قوموں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا ایک قول قرآن میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ (43:22) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُن کے پیچھے چل رہے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ’آباء‘ سے مراد قومی اکابر ہیں، اور پیچھے چلنے کا مطلب یہ ہے کہ ان اکابر نے سوچنے کا جو ٹرینڈ (trend) دیا ہے، ہم اُس پر چلے جارہے ہیں۔ یہی ہر قوم کا حال ہوتا ہے۔ کسی قوم کے اکابر سوچنے کا جو انداز پیدا کر دیتے ہیں، بعد کے لوگ اُسی پر چلتے رہتے ہیں، وہ اس کی نظرثانی کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس کی ایک مثال امت مسلمہ میں یہ ہے کہ نوآبادیات (colonialism) کے دور میں جو مسلم رہنما پیدا ہوئے، اُن کے اندر ردِ عمل (reaction) کے تحت ایک ذہن بنا۔ اْس زمانے کی ان کی تقریریں اور تحریریں تمام تر منفی سوچ کی حامل بن گئیں۔ بعد کی مسلم نسلوں میں یہی منفی طرزِ فکر چل پڑا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر مغرب کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ یہ اسی آیت کا مصداق ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ نو آبادیاتی دور کی اس سوچ پر نظرثانی کی جائے، لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سوچنے کے اسی قدیم ماڈل کو درست سمجھتے ہیں، وہ اس کے لیے تیار نہیں کہ وہ اپنی روایتی منفی سوچ کو بدلیں اور از سرِ نو مثبت انداز میں اپنے فکر کی تشکیل کریں۔ ”اکابر کا طریقہ“ یا ”منہج سلف“ جیسے الفاظ جو بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں رائج ہوئے، وہ دراصل آبا پرستی ہی کے خوب صورت نام ہیں، وہ آبا پرستی ہی کی مختلف تعبیریں ہیں، لیکن اس طرح کی خوب صورت تعبیرات سے اصل حقیقت بدلی نہیں جاسکتی۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے، کوئی نیا صحیح آغاز صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ وہ منہج اکابر کے نام پر ماضی پرستی کو چھوڑیں اور قرآن وسنت کی روشنی میں از سرِ نو، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ اس کے سوا کوئی اور تدبیر ان کے لئے کارگر ہونے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page