Al-Risala · September 2014 · page 10

اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۰

اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن

جہاں انسان ہے وہاں دعوت ہے۔ اس اصول کوالرسالہ مشن کے لوگوں نے مختلف صورتوں میں دریافت کیا ہے۔ وہ ہر ایسے موقع پر پہنچ کر وہاں بک اسٹال لگاتے ہیں جہاں انسان ہوں، اور اس کے ذریعہ وہ قرآن کا ترجمہ اور دوسری کتابیں تک پہنچارہے ہیں۔ انھیں طریقوں میں سے ایک طریقہ وہ ہے جس کو اسٹریٹ دعوة کا نام دیا گیا الرسالہ مشن کے لوگ مختلف مقامات پراسٹریٹ دعوة کا یہ طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اُس کے ذریعہ دعوت حق کو پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ اسٹریٹ دعوة کا مطلب ہے روڈ کے کنارے بک اسٹال لگانا اور پرامن انداز میں لوگوں تک لٹریچر کے ذریعے حق کا پیغام پہنچانا۔

اسٹریٹ دعوة کا طریقہ صرف دعوت کا ایک طریقہ نہیں، وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت بھی ہے۔ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ تھا کہ آپ عرب کے اسواق میں جاتے اور وہاں لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے۔ اسواق کا لفظ سوق (بازار) کی جمع ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو قبائلی تیوہار (Tribal Festival) کہا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر قبیلہ کے لوگ جمع ہوتے، اور قبائلی رسمیں ادا کرتے۔ جو لوگ اسٹریٹ دعوة کا کام کر رہے ہیں، ان کو، ان شاء اللہ، اس سنت رسول کی پیروی کا ثواب ملے گا۔

ضرورت ہے کہ اسٹریٹ دعوة کے طریقہ کو ہر جگہ پھیلایا جائے ۔ اسٹریٹ دعوة کے ذریعہ ہر جگہ کے لوگوں تک پہنچا جائے ۔ اسٹریٹ دعوة کے مواقع ہر جگہ موجود ہیں۔ ہر شہر اور ہر بستی میں اس طریقہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اسٹریٹ دعوة، دعوت کی توسیع (extension) ہے۔ اسٹریٹ دعوة، روڈ شو (road show) کا اسلامائزیشن ہے۔

موجودہ زمانہ کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ اس تقاضہ کے تحت ساری دنیا میں ہر جگہ سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ ان سڑکوں پر رات دن انسانوں کا سفر جاری رہتا ہے۔ ہر وقت لوگ سڑکوں پر متحرک رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page