Al-Risala · September 2014 · page 11

اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۱

یہ ایک نیا ظاہر ہ(phenomenon) ہے۔ اس کو ہیومینٹی آن دی موو(humanity on the move) کہا جا سکتا ہے۔

الرساله مشن کے لوگوں نے اس عصری تقاضے کی دعوتی اہمیت کو سمجھا۔ وہ یہ کر رہے ہیں کہ دوسرے ذرائع کے علاوہ سڑکوں کو بھی وہ دعوت کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ روڈ کے کنارے وہ بک اسٹال لگاتے ہیں اور اس کے ذریعہ وہ قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بڑے پیمانہ پر لوگوں کے درمیان پھیلا رہے ہیں۔ اس طریقے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ اس کے عمومی امکانات کو دیکھتے ہوئے اس کو دعوۃ اکسپلوزن کہا جا سکتا ہے۔

موجودہ زمانہ میں ہر وقت انسانیت کا قافلہ سڑکوں پر رواں دواں رہتا ہے۔ دعوتی نقطہ نظر سے یہ سارے انسان مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان کو سچائی کا پیغام پہنچایا جائے۔ سچائی کا پیغام ایک نان پولیٹیکل (non-political) اور نان کمیونل (non-communal) پیغام ہے۔ وہ مکمل معنوں میں ایک پرامن پیغام (peaceful message) ہے۔ وہ ہر ایک کی اپنی ضرورت ہے۔ اس مشن کی یہ نوعیت اس کو آخری حد تک بے مسئلہ مشن (no problem mission) بنا دیتی ہے۔ یہ مشن تمام ترا یک دینے والا مشن (giver mission) ہے، نہ کہ لینے والا مشن۔

ضرورت ہے کہ اس طریقہ کو آخری حد تک عام کیا جائے ۔ یہاں تک کہ کوئی گزرگاہ ایسی نہ بچے، جہاں گزرنے والے انسانوں کو سچائی کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک بک اسٹال موجود نہ ہو۔ دعوت الی اللہ کا کام ایک تخلیقی کام (creative work) ہے۔ داعی کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہئے کہ وہ خود سوچے اور خود منصوبہ بنائے۔ انسانی حالات اتنے زیادہ مختلف ہوتے ہیں کہ اُن کی کوئی گنتی نہیں کی جاسکتی، اس لئے کوئی لگا بندھا نقشہ، دعوت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔ کارگر دعوت اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے، جب کہ داعی کے اندر خود فکری (self-thinking) کی صلاحیت موجود ہو۔ وہ حالات کے مطابق نیا نقشہ کا ر بنا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page