Al-Risala · September 2014 · page 14

الاخوان المسلمون

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۴

شيء، فتوضأ وما كلّم أحداً فلصقت بالحجرة أسمع ما يقول فقعد على المنبر فحمد الله وأثنى عليه، وقال: أيها الناس، إن الله تعالى يقول لكم مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل أن تدعوا فلا أجيب لكم وتسألوني فلا أعطيكم وتستنصروني فلا أنصركم، فما زاد عليهن حتى نزل (صحيح ابن حبان، رقم الحديث: 290) یعنی حضرت عائشہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میں نے آپ کے چہرے کو دیکھ کر محسوس کیا کہ کوئی بات پیش آئی ہے۔ پھر آپ نے وضو کیا اور آپ نے کسی سے بات نہیں کی۔ چناں چہ میں حجرے کی دیوار کے پاس کھڑی ہو کر سننے لگی کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ پھر آپ ممبر پر کھڑے ہوئے اور حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! اللہ تم سے کہتا ہے کہ تم معروف کا حکم کرو اور منکر سے روکو، اس سے پہلے کہ تم مجھ سے دعا کرو اور میں تمھاری دعا قبول نہ کروں، اور تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمھاری حاجت روائی نہ کروں، اور تم مجھ سے مدد طلب کرو اور میں تمھاری نصرت نہ کروں۔ آپ نے اس کے بعد مزید کچھ نہیں فرمایا اور منبر سے اتر گئے۔ اس حدیث رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں امت مسلمہ کے اُس دور زوال کا ذکر ہے جب کہ امت صراط مستقیم سے ہٹ چکی ہوگی، لیکن قانون فطرت کے مطابق، ان کے اندر نماز اور دعا کا کلچر بظاہر باقی رہے گا۔ جب امت کا یہ حال ہو جائے تو اُس وقت علماء کا کام یہ ہوگا کہ وہ اس کو دوبارہ صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کریں۔ دعا اور عبادت کے ظاہر کلچر کی بنا پر ایسا نہیں ہوسکتا کہ اُن پر اللہ کی نصرت آ جائے۔

اس اصول کے مطابق، الاخوان المسلمون کا کیس یہ ہے کہ اُن پر امر بالمعروف کے تقاضے پورے کیے جائیں، نہ کہ دعا و نماز کے نام پر قومی کلچر کا احیا۔ الاخوان المسلمون کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اساس غلط طور پر سیاسی اسلام پر رکھی گئی ہے۔ ان کی تمام سرگرمیاں اسی کا اظہار ہیں۔ یہی ان کی اصل غلطی ہے۔ الاخوان المسلمون پر اللہ کی نصرت اسی اصولی غلطی کی اصلاح پر آئے گی، کوئی اور تدبیر اُن کو نصرت الہی کا مستحق بنانے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page