Al-Risala · January 2014 · page

کامیابی کا اصول

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

سوال

ماہ نامہ الرساله، نومبر 2013 کے شمارے میں آپ نے ”تعاہد کیا ہے“ کے عنوان کے تحت ایک بات یہ لکھی ہے کہ : ”تم قرآن میں نئے نئے معانی تلاش کرتے رہو‘۔ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (ڈاکٹر محمد رفیق بہار، سری نگر، کشمیر)

جواب

آپ کے اس سوال کا جواب خود قرآن میں موجود ہے۔ مثلاً آپ قرآن کی سورہ ص کی اس آیت کا مطالعہ فرمائیں: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الأَلْبَابِ (38:39)۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کی آیتوں کا ایک مطلب وہ ہے جو الفاظ کے ترجمے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کا دوسرا مطلب وہ ہے جو عقلی غور و فکر کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ گویا قرآن کے فہم کی دو سطحیں ہیں— ایک، لفظی اور دوسرے، معنوی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: لكل آية منها ظهر وبطن (صحیح ابن حبان، رقم الحديث: 75) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک لفظی مفہوم ہے اور اس کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو اُس کے بین السطور میں پایا جاتا ہے، جس کو صرف تدبر کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا تنقضي عجائبه (المستدرك للحاكم، رقم الحديث: 2040) یعنی قرآن کے عجائب (wonders) کبھی ختم نہ ہوں گے۔

مثلاً قرآن میں پانی کے بارے یہ آیت آئی ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا (50:9)۔ آپ نے قرآن کی اس آیت کو پڑھا تو اس کا پہلا مفہوم آپ کے ذہن میں یہ آیا کہ پانی اللہ کا ایک بابرکت عطیہ ہے، پھر آپ نے سوچا کہ پانی کیسے آپ کو ملا۔ اس طرح آپ نے بارش کے نظام کو دریافت کیا، پھر مزید آپ نے یہ سوچا کہ پانی جب سمندر میں تھا تو وہ نمکین تھا، پھر بارش کے ذریعے آپ کو میٹھا پانی کیسے ملا۔ اس طرح آپ اس واقعے تک پہنچے کہ فطرت میں ازالہ نمک (desalination) کا آفاقی نظام قائم ہے۔ اس طرح جب آپ سوچیں گے تو آپ کے ذہن میں ایک چین ری ایکشن

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page