Al-Risala · January 2014 · page 41

کامیابی کا اصول

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴، صفحہ ۴۱

(chain reaction) کا عمل (process) جاری ہو جائے گا اور آپ ایک کے بعد ایک، نئے معانی کو دریافت کرتے رہیں گے۔ یہی وہ حقیقت ہے کو جس کو الرسالہ کے مذکورہ مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔ سوال آپ نے کشمیر کی نسبت سے کافی لکھا ہے۔ یہ کشمیریوں کے ساتھ آپ کی خیر خواہی کی دلیل ہے۔ آپ نے ”کشمیر میں امن“ (Peace in Kashmir) اور ”صبح کشمیر“ (Dawn Over Kashmir) نام کی کتابوں کو تحریر کر کے کشمیریوں کو صحیح رہنمائی دی ہے۔ ایک اگر historical document ہے تو دوسری ideological document ہے۔ دونوں تحریروں میں تاریخ اور مذہب کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔ میں کشمیر کے gun culture میں جوان ہوا، لہٰذا میں کشمیر کے صوفی کلچر سے عملاً بے خبر ہوں۔ البتہ میرے والد بتاتے ہیں ”میں جب اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو کشمیر کی موجودہ صورت حال مجھے ایک خواب نظر آتی ہے۔ جب گاؤں میں ہمارا کوئی مہمان آتا تھا تو اس کی تواضع کے لئے ہم مرغ ذبح کرتے تھے، لیکن مرغ ذبح کرنے کے لیے ہمیں مشکل ہی سے کوئی آدمی ملتا تھا۔ اکثر لوگوں کے پاس چاقو تک نہ ہوتا تھا۔ لوگ جانور کو مارنے سے کتراتے تھے، کسی انسان کو تکلیف دینے کو تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ “ ایک روز میں نے کیڑے مار دوا چھڑکی۔ صبح کو میرے والد نے مجھے بلایا۔ مرے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا قتل ہے۔ “ میں اس رحم دلی کے مزاج کو یاد کر کے آج روتا ہوں۔ یہ ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ یہی کشمیریوں کی فطرت تھی جس کو عرف عام میں ہم ”کشمیر یت“ سے یاد کرتے ہیں۔ جہاں تک میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، کشمیر کی نسبت سے آپ کا مشن کشمیر کو دوبارہ اپنے فطری حالت پر لانا ہے تا کہ ہم دنیا کو امن و سلامتی (اسلام) کا پیغام دے سکیں۔ برائے مہربانی مزید رہنمائی سے نوازیں (انجینئر سید عابد حسین، بڈگام، کشمیر) جواب کشمیر کا مسئلہ ہو یا اس قسم کے دوسرے مسائل، ہر ایک کا سبب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگ محدود طور پر صرف اُس مسئلے کو لے کر سوچتے ہیں جس سے وہ عملاً دو چار ہیں۔ وہ ان مسائل سے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page