Al-Risala · September 2014 · page 17

کائنات کی وسعت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۷

کائنات کی وسعت

جب سے خلا کے دور بینی مشاہدے کا دور آیا ہے، بار بار نئی کہکشاؤں اور نئے ستاروں کا انکشاف ہوتا رہتا ہے۔ حال میں اس قسم کا ایک نیا خلائی انکشاف سامنے آیا ہے۔ مغربی سائنس دانوں کی ایک ٹیم جو فرانس کی رصد گاہ (Cote d’ Azur Observatory) کے تحت خلائی مشاہدہ کر رہی تھی، اُس نے ایک ایسا نیا ستارہ دریافت کیا ہے جو ہمارے سورج سے تیرہ سو گنا بڑا ہے اور زمین سے بارہ ہزار سال نور کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہ سورج سے تقریباً ایک ملین گنا زیادہ روشن ہے۔ خورد بین اور دور بین جیسے آلات کی دریافت سے پہلے انسان کو دنیا کے عجائبات کے بارے میں بہت کم معلوم تھا۔ بیسویں صدی کا زمانہ معلوماتی انفجار (knowledge explosion) کا زمانہ ہے۔ اس دور میں کائنات کے بارے میں بے شمار انوکھی باتیں دریافت ہوئیں جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

اب وہ وقت آگیا ہے کہ انسان خالق کی معرفت کو زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت کرے۔ وہ خالق کی عظمتوں کا نیا برتر ادراک حاصل کرے ۔ وہ آیاتِ اللہ (signs of God)، آلاء اللہ (wonders of God) کے نئے پہلوؤں کو دریافت کرے۔ وہ عظمتِ خداوندی کے نئے احساس کے تحت کہہ اٹھے۔ الحمد للہ رب العالمین۔

ایک حدیث میں قرآن کے بارے میں آیا ہے: لا تنقضي عجائبه (قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے)۔ یہ عجائب کتاب کے عجائب نہیں، بلکہ وہ صاحب کتاب کے عجائب ہیں۔ بعد کے زمانے کی تمام کائناتی دریافتیں اسی پیشین گوئی کی تفصیل ہیں، وہ خالق کی لا محدود عظمت کا بیان ہیں۔ اس خلائی دریافت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نیا دریافت شدہ ستارہ اور سورج دونوں ایک ہی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیا دریافت شدہ ستارہ جس طرح ایک ستارہ ہے، اُسی طرح سورج بھی ایک ستارہ ہے۔ البتہ نیا دریافت شدہ ستارہ سورج کے مقابلے میں تیرہ سوگنا زیادہ بڑا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page