Al-Risala · September 2014 · page 18

کائنات کی وسعت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۸

اگر ایسا ہوتا کہ نیا دریافت شدہ ستارہ سورج کی جگہ پر ہوتا اور سورج نئے ستارے کی جگہ پر، تو زمین پر اتنی زیادہ گرمی ہوتی کہ زندگی کی کوئی بھی قسم یہاں موجود نہ ہوتی، نہ پانی ہوتا اور نہ نباتات حیوانات اور نہ انسان ۔

ستاروں کی یہ پوزیشن نہایت با معنی ہے۔ قرآن میں اس خلائی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فلا أقسم بمواقع النجوم، وإنه لقسم لو تعلمون عظیم (76-56) یعنی پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی۔ اور اگر تم جانو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ اس آیت میں قسم کا مطلب گواہی ہے۔ اور مواقع کا مطلب وقوع (placement) ہے، یعنی وسیع خلا میں ستاروں کو نہایت درست مقام پر رکھنا ایک عظیم شہادت ہے جو خالق کی بے پناہ قدرت اور بے پناہ حکمت کو بتاتی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں کا وقوع اتفاقاً نہیں ہوسکتا۔ یہ بامعنی وقوع (meaningful placement) گواہی دے رہا ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عظیم ہستی ہے اور اس نے عظیم قدرت کے ذریعے یہ نظام قائم کیا ہے۔ اس عظیم کائناتی واقعے کی اس کے سوا کوئی اور توجیہہ ممکن نہیں۔

Found: A yellow star that is 1,300 times bigger than Sun The largest ever yellow star, measuring 1,300 times the size of our Sun, has been discovered nearly 12,000 light-years from Earth. The star, dubbed HR 5171A, located in the constellation Centaurus is the largest known member of the family of yellow stars to which our Sun belongs. It is also one of the 10 largest stars found so far 50% larger than the famous red supergiant Betelgeuse and about one million times brighter than the Sun. The team led by Oliver Chesneau of the Cote dAzur Observatory in Nice, France, found that the yellow hypergiant star is much bigger, measuring 1,300 times the diameter of the Sun. (The Times of India, New Delhi, 14 March, 2014, p. 19)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page