عقیدہ آخرت کی طاقت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲
عقیدہ آخرت کی طاقت
قدیم عراق کا سلجوقی حکمراں ملک شاہ (وفات: 1092ء) کا ایک واقعہ ہے۔ ایک دن ملک شاہ گھوڑے پر سوار ہو کر ایک پل سے گزر رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک بوڑھی عورت آ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کے لڑکے کو ملک شاہ کے کسی سپاہی نے بیگار کے طور پر پکڑ لیا تھا۔ بوڑھی عورت نے سلطان کو مخاطب کرتے ہوئے اس سے فریاد کی اور کہا کہ تمھارا ایک سپاہی میرے لڑکے کو بلا وجہ پکڑ لے گیا ہے، سلطان نے کہا کہ تم دربار میں استغاثہ پیش کرو۔ بوڑھی عورت نے کہا کہ ملک شاہ! میرا فیصلہ تم کو اسی وقت اور اسی پل پر کرنا ہوگا، یا پھر کل اُس پل (پل صراط) پر فیصلہ ہوگا۔ بوڑھی عورت کی یہ بات سن کر سلطان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور اس نے اُسی وقت اس کی فریاد رسی کی۔ (مجله الشارق، اعظم گڑھ، مارچ، اپریل 2014)
آخرت کا عقیدہ بلا شبہ تمام دوسرے عقائد سے زیادہ بڑا انقلابی عقیدہ ہے۔ جس آدمی کو آخرت کی دریافت ہو جائے، وہ اس عقیدے کی دریافت کے بعد ویسا نہیں رہے گا جیسا کہ وہ اس عقیدے کی دریافت سے پہلے تھا۔ آخرت کی دریافت کا واقعہ اس کے لیے ایک بھونچال بن جائے گا۔ اس دریافت کے لازمی نتیجے کے طور پر اس کی سوچ بدل جائے گی، اس کا مزاج بدل جائے گا، اس کے بولنے کا انداز بدل جائے گا، لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک بدل جائے گا، غرض، زندگی کے ہر پہلو کے اعتبار سے وہ ایک نیا انسان بن جائے گا۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر ایک ایسا معاشرہ تیار کیا جائے، جس کے افراد آخرت کے عقیدے پر زندہ یقین رکھتے ہوں، تو ایسے معاشرے کے ہر فرد کے پاس ایک ایسی طاقت ہوگی جو بظاہر دکھائی نہیں دے گی، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ایک نا قابل تسخیر طاقت ہوگی۔ ایسے معاشرے میں کسی آدمی کو آخرت کی عدالت کی یاد دلانا اُس کے لیے گن اور بم سے زیادہ موثر ہوگا۔ آخرت کا عقیدہ ایک کمزور آدمی کو بھی سب سے بڑی طاقت کا مالک بنا دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues