علم ومعرفت کا حریص
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳
علم ومعرفت کا حریص
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہومان لا يشبعان: منهوم في العلم لا يشبع منه، منهوم في الدنيا لا يشبع منها (المستدرك للحاكم، رقم الحديث: 312) یعنی دو قسم کے حریص ہیں جو کبھی آسودہ نہیں ہوتے۔ ایک علم کا حریص جو کبھی اُس سے آسودہ نہیں ہوتا، اور دوسرا دنیا کا حریص جو کبھی اس سے آسودہ نہیں ہوتا۔
منہوم کا مطلب حریص (greedy) ہے، اور علم سے مراد علمِ معرفت ہے۔ اس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح طالبِ دنیا کبھی دنیا کے معاملے میں آسودہ نہیں ہوتا، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اس کو حاصل کرلے۔ یہی معاملہ طالبِ علم و معرفت کا ہے جو آدمی حقیقی معنوں میں علم و معرفت کا طالب ہو، وہ کبھی اُس سے آسودہ نہیں ہوگا، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اس کو حاصل کرلے۔ تاہم دونوں قسم کی طلب میں ایک فرق ہے۔ طالبِ دنیا خواہ کتنا ہی زیادہ دنیا کی چیزیں اکٹھا کرلے، اس کو کبھی ذہنی سکون (peace of mind) حاصل نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ انسان کے اندر فطری طور پر جو طلب رکھی گئی ہے، وہ معرفتِ خداوندی کی طلب ہے۔ جو آدمی اپنی اس طلب کو حصولِ دنیا میں لگاتا ہے، وہ اپنی فطری طلب کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنی فطری طلب کو حصولِ علم و معرفت میں لگائے، وہ اپنی فطری طلب کا صحیح استعمال کرتا ہے۔ اس لیے عدم قناعت (discontent) کے باوجود اس کو ہمیشہ ایک اعلیٰ قسم کا ذہنی اور روحانی سکون (intellectual satisfaction) حاصل رہتا ہے۔
بہ اعتبارِ فطرت جو چیز انسان کا مطلوب نہ ہو، وہ خواہ کم ملے یا زیادہ، ہر حال میں انسان کی فطرت اس سے غیر مطمئن رہے گی۔ اس کے برعکس، جو چیز انسان کی فطری طلب ہو، وہ انسان کو کم ملے تب بھی وہ اس کے لیے اطمینان کا ذریعہ بنے گی اور اگر زیادہ ملے تب بھی وہ اس کے لیے اطمینان کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ (9 اپریل 2014)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues