خیر امت یا زوال یافتہ امت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۷
خیر امت یا زوال یافتہ امت
حدیث میں امت مسلمہ کے بارے میں آیا ہے کہ: لتتبعن سنن من کان قبلکم (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2669) - اس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ تم پچھلی امتوں کے راستے پر چلو گے۔ اس حدیث میں دراصل قانونِ زوال کو بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ اپنے بعد کے زمانے میں اسی طرح زوال کا شکار ہوگی جس طرح دوسری امتیں زوال کا شکار ہو چکی ہیں۔ زوال کا قانون اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں۔ یہی معاملہ قرآن کی دو آیتوں میں اس طرح بتایا گیا ہے: اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِيْنَ اَمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فٰسِقُوْنَ اِعْلَمُوْا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (17-57:16) یعنی کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے اور اس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمھارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔
قرآن کی ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ امتوں میں طولِ اَمَد' کے بعد قساوت پیدا ہو جاتی ہے، یعنی امت کی بعد کی نسلوں میں دینی زوال آ جاتا ہے۔ زوال کا مطلب ہے ظاہری ڈھانچے کا باقی رہنا اور داخلی اسپرٹ کا ختم ہو جانا۔ مذکورہ آیت میں اسی حالتِ زوال کو فسق سے تعبیر کیا گیا ہے۔
فسق' کے مادّے سے مختلف الفاظ بنے ہیں۔ اُن میں سے ایک فویسقہ ہے جو فاسقہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues