Al-Risala · September 2014 · page 28

خیر امت یا زوال یافتہ امت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۸

کی تصغیر ہے۔ چوہیا کو فویستق اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بل میں چھپائے رہتی ہے۔ اس سے فاسق آدمی کا کردار معلوم ہوتا ہے۔ فسق دراصل عملی کفر کا نام ہے۔ فسق اور کفر میں یہ فرق ہے کہ فسق کے کیس میں آدمی زبان سے انکار نہیں کرتا، مگر اپنے عمل سے وہ انکار کی روش پر قائم رہتا ہے۔ اس کے برعکس، کفر کے کیس میں آدمی زبان سے بھی انکار کرتا ہے اور عمل کے اعتبار سے بھی وہ انکار کی روش پر قائم ہوتا ہے۔

فسق کا لفظ درست طور پر امت کی حالت زوال کو بتاتا ہے۔ کسی امت پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کھلے طور پر اپنے دین کا انکار کرنے لگے۔ یہود پر جب زوال آیا تو انھوں نے بھی اس قسم کا انکار نہیں کیا، اور نہ امت مسلمہ کبھی اس طرح انکار کرے گی۔ عملاً جو ہوتا ہے، وہ یہ کہ امت کے لوگ خود ساختہ طور پر دین کا ایسا ماڈل بنا لیتے ہیں جو اُن کی زوال یافتہ حالت پر پوری طرح منطبق ہوتا ہو، جس میں اُن کو اپنی زوال یافتہ حالت عین دینی حالت دکھائی دے۔

اس خود ساختہ ماڈل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مبنی براسپرٹ دین کو مبنی بر فارم دین کی صورت میں ڈھال لیا جاتا ہے۔ قومی سرگرمیوں کو دینی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے۔ لوگ عملاً اپنی خواہش پر چلنے لگتے ہیں، لیکن دین کے نام پر کچھ رسمی چیزوں کی دھوم مچا کر وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین پر عمل کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی پوری طرح دنیا دارانہ ہوتی ہے، لیکن دین کے نام پر کچھ ظاہری کام کر کے وہ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وہ اب بھی پوری طرح دین پر قائم ہیں، وغیرہ۔ فسق کو ایک لفظ میں، غیر اسلامی کو اسلامی بنانا (Islamization of non-Islam) کہا جا سکتا ہے۔ اس فاسقانہ روش کی آخری صورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سرکشی کا مزاج آجاتا ہے۔ دین کے خود ساختہ ماڈل کو اختیار کر کے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھ لیتے ہیں کہ ہم اصل دین پر قائم ہیں۔ یہ فرضی یقین (false conviction) اُن کو ہر برائی کے لیے سرکش بنا دیتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جو ایسے لوگوں کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ جس کو اپنا مخالف سمجھیں، اُس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہر غلط کارروائی کو اپنے لیے جائز ٹھہرا لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page