Al-Risala · September 2014 · page 31

Mob. 09755300295, 07556542231

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۱

کر کے مدینہ گئے تو یہاں کی صورتِ حال مختلف تھی۔ مدینہ کی آبادی کا تناسب اس طرح تھا کہ دو عرب قبیلے تھے: اوس اور خزرج، اور تین یہودی قبیلے تھے: بنونضیر، بنوقضاعہ، بنوقینقاع۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین میں ایک نیا مخاطب گروہ (یہود) وجود میں آگیا۔ اب ایسا ہوا کہ مسلسل طور پر یہود سے انٹرایکشن ہونے لگا۔ یہود کے سامنے آپ دینِ اسلام پیش کرنے لگے۔ یہود کے سوالات کا جواب دیا جانے لگا۔ یہود، جن کی حیثیت امتِ موسیٰ کی تھی، اُن کے احوال برابر قرآن میں زیرِ بحث آنے لگے۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ مدنی سورتوں کا بڑا حصہ یہودونصاریٰ کے تذکرے پر مشتمل ہے۔

یہ یہودونصاریٰ کون تھے؟ وہ دراصل دورِ قدیم کی زوال یافتہ امت تھے۔ یہودونصاریٰ کے حال میں امتِ مسلمہ کا مستقبل دکھائی دیتا تھا۔ اسی لیے قرآن کی مصحفی ترتیب میں مدنی سورتوں کو پہلے کر دیا گیا، کیوں کہ انھیں زوال یافتہ حالات کی روشنی میں وہ لائحہ عمل تیار ہونا تھا جو امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں کی اصلاح کے لیے درکار تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ بعد کی مسلم نسلوں کو خیر امت فرض کر کے کام کا آغاز نہیں کرنا ہے، بلکہ اس واقعے کو تسلیم کر کے اس کے اندر اصلاح کا کام کرنا ہے کہ یہ امت زوال کے اُس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں یہودونصاریٰ پہنچے تھے۔ اس بنا پر ان کی اصلاح کے لیے وہی اسلوب اختیار کرنا ہے جو قرآن کی سورہ الحدید کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے، یعنی پہلے امت میں ذہنی بیداری لانا اور اس کے بعد اس کی عملی اصلاح کرنا۔

بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ حاصل کرنے کے لیے رابطہ قائم کریں: Mr. Bilaluddin Al-Quran Mission 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)

Mob. 09755300295, 07556542231

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page