Al-Risala · September 2014 · page 30

اصلاح کا طریقہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۰

مصحف کے آخر میں رکھ دیا گیا، اور جو سورتیں بعد کو مدینہ میں اتریں، ان کو ترتیب میں مصحف کے ابتدائی حصے میں رکھ دیا گیا ۔ ترتیب میں یہ تبدیلی اتفاقی نہیں ہے، بلکہ اس کو بالقصد طور پر اختیار کیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مکی دور میں جب قرآن اترنا شروع ہوا اُس وقت امتِ مسلمہ بحیثیت ’’امت‘‘ موجود نہ تھی۔ اُس وقت مکہ میں اور اطرافِ مکہ میں دعوت کا کام کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ گروہ تیار ہوا جس کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ گویا کہ مکی دور میں اسلام کا سفر غیر اسلام سے اسلام کی طرف یا غیر امتِ مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا۔ لیکن مدنی دور میں یہ ہوا کہ عملاً وہ گروہ وجود میں آگیا جس کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ جب امتِ مسلمہ کے نام سے ایک امت وجود میں آگئی تو اب تاریخ کے سفر کی نوعیت بدل گئی۔ پہلے یہ ہوا تھا کہ تاریخ کا سفر امتِ غیر مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا تھا، لیکن امت بننے کے بعد ایک نیا تاریخی عمل (process) شروع ہو گیا، اور وہ تھا عروج سے زوال کی طرف یا تشکیلِ امت سے امت کے تنزّل (degeneration) کی طرف۔

مکی دور میں اسلام کی دعوت کا طریق کار یہ تھا کہ اسلام کے نہ ماننے والوں کو اسلام کی اہمیت بتا کر اُنھیں اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔ لیکن مدنی دور کے بعد یہ ہونے والا تھا کہ صرف تین نسل (قرون ثلاثہ) کے بعد امت میں زوال کا دور آ جائے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، یہ تبدیلی لازم تھی۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ امت کے مصلحین کو یہ بتایا جائے کہ امت کے زوال (degeneration) کے بعد امت کے احیاء نو (regeneration) کا طریق کار کیا ہو گا۔ یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن کی سورتوں کی وہ ترتیب اختیار کی گئی جس کو توقیفی ترتیب کہا جاتا ہے۔ یہ ترتیب اتفاقی نہیں، بلکہ وہ خود فرشتۂ وحی (جبرئیل) کی ہدایت کے مطابق کی گئی ۔ اس حکمتِ ترتیب میں یہ ہوا کہ عمومی طور پر مدنی سورتوں کو مصحف میں پہلے رکھ دیا گیا اور مکی سورتوں کو مؤخر کر دیا گیا۔ اس ترتیب کی حکمت بالکل واضح ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں صرف مشرک قبیلے آباد تھے، لیکن جب آپ نبوت کے 13 سال کے بعد ہجرت

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page