Al-Risala · September 2014 · page 35

ذاتی عقل علمی عقل

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۵

گزارتے ہیں، مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کی تمام چیزیں ایک قسم کی نہیں ہیں، بلکہ یہاں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے۔ چنانچہ فلاسفہ نے علم کی دو قسمیں کی ہیں ۔ چیزوں کا علم (knowledge of things)، سچائی کا علم (knowledge of truths)۔

انسان کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے جس سے وہ ان علوم تک پہنچ سکتا ہے اور وہ عقل (reason) ہے۔ آدمی اپنی عقل کو استعمال کر کے دونوں قسموں کے علم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انسان کے پاس ذاتی طور پر، عقل کے سوا، کوئی دوسرا ذریعہ نہیں جس سے وہ ان علوم سے واقفیت حاصل کر سکے۔

تاہم جس طرح علوم کی دو قسمیں ہیں، اُسی طرح عقل کے استعمال کی بھی دو قسمیں ہیں۔ جہاں تک چیزوں کو جاننے کا معاملہ ہے، اُن کے سلسلے میں مشاہدہ (observation) اور تجربہ (experience) کے ذریعہ کو استعمال کرنا ممکن ہے، طبیعی علوم (physical sciences) کے مطالعے کا دائرہ چیزیں (things) ہیں، اس لیے طبیعی علوم میں اصلاً مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ علم کا دوسرا دائرہ، یعنی سچائیوں تک کس طرح پہنچا جائے۔ موجودہ زمانے کے علماء سائنس کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ چیز جس کو سچائی کہا جاتا ہے، اُس تک پہنچنے کا صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ استنباط (inference) ہے، یعنی مشاہداتی حقائق کے حوالے سے، غیر مشاہداتی حقائق کے علم تک پہنچنا۔

بیسویں صدی کے نصف اول تک طبیعی سائنس (physical science) کی دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ علم وہی ہے جو مشاہداتی ذرائع سے معلوم ہو۔ لیکن علم کا سفر جب عالم کبیر (macro world) سے گزر کر عالم صغیر (micro world) تک پہنچا تو یہ مفروضہ ٹوٹ گیا۔ اب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ استنباط بھی علم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے، شرط یہ ہے کہ وہ مسلمہ علمی قواعد کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقلی طریق مطالعہ اور اسلامی طریق مطالعہ کا فرق

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page