Al-Risala · September 2014 · page 38

I think, therefore, I exist.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۸

قابل انطباق نہیں۔ تاہم سچائی کے علم کے معاملے میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک اور کرائٹیرین موجود ہے، وہ ترجیح (preference) کا کرائٹیرین ہے، یعنی دو امکانات میں سے کسی ایک امکان کو اضافی قرینہ کی بنیاد پر ترجیح دینا۔

مذکورہ فلسفیانہ بحث میں ہمارے سامنے دو رائیں (proposition) موجود ہیں۔ ایک، ڈیکارٹ اور دوسرے، سارترے کی رائے۔ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ ان میں انسانی زندگی کی کوئی بامعنی توجیہہ نہیں ملتی۔ اس اعتبار سے، دونوں کے اوپر البرٹ کامو (Albert Camus) کا تبصرہ یکساں طور پر صادق آتا ہے۔ اُس نے انسانی زندگی کے بارے میں کہا کہ ــ ہم سب اس لغو دنیا میں کیوں ہیں، کیا صرف مرنے کے لیے۔

ڈیکارٹ اور سارترے کے مذکورہ اقوال اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے کہ انسانی وجود کا مقصد کیا ہے۔ انسان کس طرح اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی حالت میں اُس دوسری رائے کو ترجیح کے اصول کی بنیاد پر درست مانا جائے گا جس میں انسانی زندگی کی بامعنی توجیہہ پائی جاتی ہو۔ یہ رائے وہی ہے جو وحی (revelation) کے ذریعے معلوم ہوتی ہے۔ یہ رائے زندگی کی بامعنی توجیہہ پیش کرتی ہے اور یہ معنویت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی رائے درست ہے۔

وحی پر مبنی اس رائے کے مطابق، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ــ میں ایک خالق کی تخلیق ہوں۔ یہی خالق ہے جس نے مجھ کو وجود دیا ہے۔ یہی خالق ہے جس نے مجھ کو سوچنے کی طاقت دی ہے۔ اس خالق کی رحمت کے بغیر میرا کوئی وجود نہیں۔

I am a creation of a Creator. It was this Creator Who gave me existence. It was this Creator Who gave me thinking power. I was nothing without the blessing of this Creator.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page