Al-Risala · September 2014 · page 37

انسانی وجود کی با معنی توجیہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۷

انسانی وجود کی با معنی توجیہ

ایک شخص کہتا ہے کہ چاند کا سائز ہمارے ایک فٹ بال کے حجم کے برابر ہے۔ دوسرا شخص کہتا ہے کہ چاند کا سائز ہماری زمین کے چوتھائی حجم کے برابر ہے۔ ان دو مختلف بیانات میں سے کون سا بیان درست ہے۔ اس کو جاننے کے لیے ہمارے پاس ایک قابل اعتماد معیار (criterion) موجود ہے۔ یہ سائنٹفک معیار ہے۔ اس سائنٹفک معیار کو منطبق کر کے ہم حتمی طور پر معلوم کر سکتے ہیں کہ دونوں میں سے پہلا بیان نادرست ہے اور صرف دوسرا بیان درست ہے۔

اب دوسری مثال لیجیے۔ فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ (Rene Descartes) نے کہا تھا کہ۔ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:

I think, therefore, I exist.

وجودی فلسفہ (existentialism) کے بانی جین پال سارترے (Jean Paul Sartre) نے اس تصور کو الٹ دیا۔ اس نے کہا کہ۔ میں ہوں، اس لیے میں سوچتا ہوں: I exist, therefore, I think. ڈیکارٹ اور سارترے کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پھر کیسے فیصلہ کیا جائے کہ دونوں میں سے کون سا بیان درست ہے اور کون سا بیان درست نہیں۔ اس دوسری مثال کے معاملے میں سائنٹفک معیار قابلِ انطباق نہیں۔ تاہم یہاں ایک اور متبادل معیار موجود ہے جس کو منطبق کر کے ہم اس دوسرے معاملے میں بھی درست جواب حاصل کر سکتے ہیں۔

برٹرنڈ رسل (وفات: 1970) نے درست طور پر لکھا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں۔ چیزوں کا علم (knowledge of things)، اور سچائیوں کا علم (knowledge of truths)۔ چیزوں کے علم کے معاملے میں ہمیشہ فزیکل کرائٹیرین (physical criterion) قابلِ انطباق (applicable) ہوتا ہے۔ لیکن جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، اُس میں فزیکل کرائٹیرین

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page