Al-Risala · September 2014 · page 44

علم کی دو قسمیں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۴

سوال و جواب سوال آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ۔ ” قرآن ایک اعتبار سے، کتاب وحی ہے اور دوسرے اعتبار سے کتابِ انقلاب ہے۔ پہلے اعتبار سے، وہ رہنما اصول (guiding principles) کا مجموعہ ہے اور دوسرے اعتبار سے، اس کے ذریعے ایک ایسا عمل (process) جاری ہوا جو اپنے تکمیلی مرحلے میں پہنچ کر معرفتِ اعلیٰ کا ذریعہ بن گیا‘۔ اس کی مزید وضاحت فرمائیں۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) جواب اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کے حسبِ ذیل دو ارشادات کا مطالعہ کیجیے: 1- اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (5:3) یعنی آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔

2- وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهِ فَتَعْرِفُوْنَهَا (27:93) یعنی کہو کہ تمام حمد اللہ کے لیے ہے۔ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم اُن کو پہچان لو گے۔

قرآن کی ان آیتوں میں ایک خاص فرق ہے، وہ یہ کہ پہلی آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ صیغہ حال (present tense) میں ہے۔ اور دوسری بات صیغۂ استقبال (future tense) میں کہی گئی ہے۔ اس فرق سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ ایک ایسی بات ہے جو نزولِ قرآن کے زمانے میں حاصل ہوگئی۔ اس کے برعکس، دوسری آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بعد کے زمانے میں حاصل ہوگی، یعنی آفاق و انفس میں ظہورِ آیات۔ سوال الرسالہ میں آپ بار بار لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو سیاسی ماڈل کے بجائے دعوتی ماڈل اختیار کرنا چاہیے۔ دعوتی ماڈل سے آپ کی مراد کیا ہے، اس کو واضح فرمائیں۔ (محمد امان اللہ، دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page