علم کی دو قسمیں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۵
جواب
آج کل یہ حال ہے کہ جس شخص کے دل میں بھی کام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، وہ فوراً سیاسی انداز میں کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کام کا سیاسی ماڈل بہت زیادہ معروف ہو گیا ہے۔ اس بنا پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ سیاسی ماڈل کے سوا کسی اور ماڈل کا تصور نہیں کر پاتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کام کا سب سے زیادہ بہتر، اور سب سے زیادہ نتیجہ خیز ماڈل وہ ہے جس کو دعوتی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دعوتی ماڈل سے مراد نظریاتی ماڈل ہے، یعنی ایک فکر یا ایک آئیڈیالوجی کی بنیاد پر پرامن جدوجہد کرنا۔ انسان ایک سوچنے والا وجود (thinking being) ہے۔ اس لیے فکری ماڈل فوراً اس کو اپیل کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی کے پاس اگر ایک حقیقی آئیڈیالوجی ہو تو وہ انتہائی حد تک طاقت ور بن جائے گا۔ حقیقت پر مبنی فکر گویا ایک نظریاتی بم (ideological bomb) کی حیثیت رکھتا ہے، جو تمام طاقت ور چیزوں سے زیادہ طاقت ور ہے۔
سوال
الرسالہ میں آپ نے کئی بار لکھا ہے کہ مسلمانوں کو اپوزیشن کی سیاست سے بچنا چاہیے۔ براہ کرم، اس معاملے کی مزید وضاحت فرمائیں (محمد شارق، سری نگر)
جواب
سیاست چلتی ہے ٹکراؤ پر۔ یہ مقولہ سیاست یا پولیٹکل ایکٹوزم (political activism) کو درست طور پر بتاتا ہے۔ سیاست ٹکراؤ کا کلچر ہے۔ سیاست میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مد مقابل (rival) بنا کر اُس کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔ ابتداءً یہ مہم پرامن طور پر شروع ہوتی ہے۔ بعد کو دھیرے دھیرے وہ نفرت اور تشدد اور جنگ تک پہنچ جاتی ہے، حتیٰ کہ جب مقصد حاصل نہیں ہوتا تو وہ خودکُش بم باری (suicide bombing) جیسی تباہ کن صورت حال اختیار کر لیتی ہے۔ اپوزیشن کی سیاست (politics of opposition) بلا شبہ شیطان کی سنت ہے۔ آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں جو روش اختیار کی اور جس طرح اُس نے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues