علم کی دو قسمیں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۶
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کیا، وہ آج کل کی زبان میں گویا اپوزیشن کی سیاست تھی۔ اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیطان ابدی طور پر اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔ اُس کے لیے یہ مقدر ہو گیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے نفرت اور عداوت میں جئے اور کبھی وہ اُس سے نہ نکل نہ سکے۔ ابلیس کا یہ انجام انسانی نسلوں کے لیے ایک سبق ہے۔ انسانوں میں سے جو لوگ اپوزیشن کی سیاست کریں، وہ ابلیس کی اِسی سنت پر چل رہے ہیں۔ اپوزیشن کی سیاست دوسرے لفظوں میں، منفی سیاست ہے، اور منفی سیاست سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا، نہ سیاسی لیڈروں کے لیے اور نہ اُن لوگوں کے لیے جو ایسے لیڈروں کا ساتھ دیں۔ کشمیر اور دوسرے مقامات کے مسلمان جو اپوزیشن کی سیاست میں مشغول ہیں، وہ ایسا کر کے ایک بہت بڑا رسک (risk) لے رہے ہیں۔ یہ اللہ کی رحمت سے محرومی کا رسک (خطرہ) ہے۔ اور بلاشبہ اللہ کی رحمت سے محرومی اتنی بری چیز ہے کہ اُس سے زیادہ بری چیز اور کوئی نہیں۔ سوال پیغمبر کے زمانے کے لوگوں کو پیغمبر کی صحبت کے ذریعے اللہ کی معرفت مل گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے بعد کے لوگوں کو یہ معرفت کیسے حاصل ہوگی۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) جواب کسی انسان کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ اللہ کی معرفت کوئی پراسرار چیز نہیں۔ یہ علم انسانی (human knowledge) کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ جس آدمی کو حقیقی معنوں میں اللہ کی معرفت حاصل ہو جائے، وہ اس کی پوری زندگی میں شامل ہو جائے گی۔ وہ فکر سے لے کر عمل تک اس کی پوری شخصیت کی تشکیل کرے گی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معرفت کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے مبنی بر صحبت معرفت اور دوسرا ہے مبنی بر علم معرفت۔ پیغمبر کی زندگی میں جو لوگ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں، ان کو صحبتِ رسول کے ذریعے اللہ کی معرفت کا رزق حاصل ہوتا ہے۔ پیغمبر کے بعد بھی معرفت کی حیثیت ایک اعلیٰ ایمانی مطلوب کی ہوتی ہے، لیکن پیغمبر کے بعد معرفت کے حصول کا ذریعہ علم ہے۔ علم وحی بھی اور علم انسانی بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues