Al-Risala · October 2014 · page 9

اجماع، رائے جمہور

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۹

اجماع، رائے جمہور

اسلام میں مصدرِ شرعی کی حیثیت صرف دو چیزوں کو حاصل ہے ــ قرآن اور سنت۔ قرآن اور سنت دونوں ابدی طور پر شرعی مصدر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن اس لیے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور سنت اس لیے کہ وہ اللہ کے پیغمبر کا کلام یا اس کا عمل ہے۔ قرآن اور سنت کے سوا کسی اور چیز کو یہ درجہ حاصل نہیں۔

تیسری چیز وہ ہے جس کو قرآن میں استنباط (4:83) اور حدیث میں اجتہاد کہا گیا ہے۔ استنباط یا اجتہاد اسلام کی عملی ضرورت ہے۔ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کے ابدی اصولوں کا انطباق نو (re-application) درکار ہوتا ہے۔ اجماع یارائے جمہور اس انطباق کی دو عملی صورتیں ہیں۔ بعد کے زمانے میں جب کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو علماءِ اسلام کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ اُس پر کام کریں اور استنباط یا اجتہاد کے ذریعے یہ معلوم کریں کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کی تعلیم کو کس طرح منطبق (apply) کیا جاسکتا ہے۔ علماء کی یہ رائے اگر کامل اتفاق (consensus) سے بنی ہو تو اس کو اجماع کہا جائے گا اور اگر وہ اکثریت (majority) کی رائے پر مبنی ہو تو اس کو رائےِ جمہور کہا جائے گا۔ تاہم اجماع یارائے جمہور دونوں میں سے کوئی بھی ابدی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین میں قرآن اور سنت کی حیثیت مطلق مرجع (absolute reference) کی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اصولاً ہمیشہ اور ہر دور میں قابلِ اتباع رہیں گی۔ اُن میں حالات کے اعتبار سے، نئی تشریح یا نئی تاویل تو کی جاسکتی ہے، لیکن اُن کا حکمِ شرعی ہونا ہمیشہ یکساں طور پر مطلوب ہوگا۔ مگر جہاں تک اجماع یارائے جمہور کی بات ہے، وہ عملی تقاضا (practical reason) کی بنا پر دین کا حصہ ہیں، یعنی جب تک وہ حالات باقی ہیں، جن میں کوئی مسئلہ اجماعی یا جمہوری طور پر بنایا گیا تھا، اُس وقت تک وہ بھی باقی رہیں گے، اور جب حالات بدل جائیں تو ضرورت ہوگی کہ از سرِ نو اُن کا حکم متعین کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page