Al-Risala · October 2014 · page 10

کامیاب انسانوں کی ناکامی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۰

کامیاب انسانوں کی ناکامی

عظیم ہاشم پریم جی (پیدائش: 1945) دنیا کے عظیم ترین صنعت کاروں میں سے ایک ہیں۔ اُن کو ایک نہایت کامیاب انسان (super achiever) سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ ۔ زندگی کے بارے میں سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب آپ اس کو سمجھنے لگتے ہیں تو وہ ختم ہونے کے قریب ہو جاتی ہے۔

زندگی کے بارے میں اس قسم کا تاثر اکثر کامیاب لوگوں نے بیان کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی عمر محدود ہے، لیکن اس کی خواہشیں (desires) لامحدود ہیں۔ آدمی پختگی کی عمر کو پہنچ کر جب اپنی زندگی شروع کرتا ہے تو اس کو طرح طرح کے تجربات پیش آتے ہیں، منفی تجربات بھی اور مثبت تجربات بھی۔ لرننگ (learning) کے مختلف احوال سے گزرتے ہوئے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جب کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ اب میں زیادہ بہتر طور پر اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کر سکتا ہوں، عین اُس وقت اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اب میں بوڑھا ہو گیا یا میری موت کا وقت قریب آگیا۔ اس مرحلے میں پہنچ کر اس کا یقین (conviction) مایوسی (frustration) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنی آخری منزل تک پہنچے بغیر میرا خاتمہ ہو رہا ہے۔ اس احساس کو رابندر ناتھ ٹیگور نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا میری ساری عمر بینا (ستار) کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی۔ جو انتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گا سکا۔

ہر انسان حوصلے کے ساتھ اپنی زندگی شروع کرتا ہے اور پھر مایوسی کے ساتھ وہ مر جاتا ہے۔ اس المیہ کا سبب صرف ایک ہے ۔ فانی دنیا میں اُس چیز کو پانے کی کوشش کرنا جو صرف آخرت کی ابدی دنیا میں ملنے والی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی شروع کرنے سے پہلے خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے۔ اس دنیا میں حقیقی کامیابی صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو خالق کے نقشے کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page