ہیرا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۱
ہیرا
ہیرا (diamond) سب سے زیادہ قیمتی دھات ہے۔ ہیرا خالص کاربن ہوتا ہے۔ اس میں وہی بنیادی اجزا ہوتے ہیں جو کوئلے میں پائے جاتے ہیں۔ قدرتی ہیرا تیار ہونے میں کئی سو سال لگتے ہیں۔ ہیرا جب نکالا جاتا ہے تو وہ ایک کھردری معدنیات کے مشابہ ہوتا ہے۔ تراش خراش کے بعد وہ قیمتی ہیرے کی شکل میں بن کر تیار ہوتا ہے۔ نگینہ بنانے میں عام طور پر 35 سے 60 فی صد حصہ صاف کرنے میں کاٹ دیا جاتا ہے۔ (روزنامہ منصف، حیدر آباد، دکن، 11 جون 2013) جو ہیرے کا معاملہ ہے، وہی فطرت کے مطابق، انسان کا معاملہ بھی ہے۔ ہیرے کی طرح انسان بھی ایک پوٹینشل کے روپ میں پیدا ہوتا ہے۔ اس پوٹینشل کو ایکچول بنانا انسان کا اپنا کام ہے۔ جو شخص اس راز کو جانے اور اپنے امکان کو واقعہ بنانے کی کوشش کرے، وہی ’ہیرا انسان‘ ہے۔ اور جو آدمی ایسا نہ کر سکے، اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ہیرے کے ٹکڑے کو کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے ۔
ہر انسان کے اندر ایک امکانی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ شخصیت کسی انسان کو فطرت کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔ اس شخصیت کا ارتقا اپنے آپ نہیں ہو سکتا۔ یہ کام آدمی کو خود کرنا ہے۔ یہی آدمی کا اصل امتحان ہے۔ بعض انسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیلف میڈ مین (self-made man) تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان کا کیس یہی ہے۔
ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اُس شخصیت (personality) کو دریافت کرے جو فطرت کی طرف سے اُس کو ملی ہے۔ یہ شخصیت گویا ایک نا تراشیدہ ہیرا ہے۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اس نا تراشیدہ انسان کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبے کے ذریعے وہ اس نا تراشیدہ ہیرے کو تراشیدہ ہیرا بنائے۔ جو شخص اس عمل میں ناکام رہے، اس کے لیے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں کوئی جگہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues