زندگی اور موت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۷
زندگی اور موت
الرسالہ مشن سے وابستہ ایک خاتون کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ روڈ ایکسیڈنٹ میں ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اُن سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس معاملے کو آپ قرآن کی دو آیتوں کی روشنی میں دیکھئے (2:155)، (3:185)۔ اس کے مطابق، موت اللہ کا ایک فیصلہ ہے۔ زندگی بھی اللہ کے فیصلے سے وجود میں آتی ہے اور موت بھی اللہ کے فیصلے سے وقوع میں آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کوئی حادثہ نہیں، موت ایک امتحان (test) ہے۔ موت کو اگر حادثہ (accident) سمجھا جائے تو اُس سے غم کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، موت کو اگر امتحان سمجھا جائے تو آدمی کے اندر ایک نیا عزم جاگ اٹھے گا۔ وہ سمجھے گا کہ اب تک میرا امتحان زندگی کے ذریعے ہو رہا تھا، اب میرا امتحان موت کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ میری کامیابی یہ ہے کہ میں اس معاملے کو امتحان کی نظر سے دیکھوں اور اس میں پورا اترنے کی کوشش کروں۔ کسی کی موت خواہ وہ حادثے کے طور پر ہو یا بیماری کے طور پر، وہ کبھی بے وقت نہیں آتی۔ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ امتحان کے لیے پیدا ہوتا ہے۔ ہر ایک کے لیے امتحان کی ایک مدت مقرر ہے۔ یہ مقرر مدت پوری ہوتے ہی موت کا فرشتہ آتا ہے اور اس کی روح قبض کر کے اس کو آخرت کی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ موت کے معاملے میں حقیقت پسند بنے۔ وہ موت کو ایک اٹل حقیقت کے طور پر تسلیم کرے۔ وہ موت کو اپنے لیے سبق کا ذریعہ بنائے، نہ کہ غم اور افسوس کا ذریعہ۔ موت کو حدیث میں "ہادم اللذات" (مسند احمد، رقم الحديث: 7925) کہا گیا ہے، یعنی لذتوں کو ڈھادینے والا واقعہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کو موت کا حقیقی ادراک ہو جائے، وہ آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے گا۔ وہ آج (today) کے بجائے کل (tomorrow) کو اپنا نشانہ (goal) بنا لے گا۔ اس کی زندگی مکمل طور پر آخرت رخی زندگی بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues