جوہر شناسی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶
جوہر شناسی
کہا جاتا ہے کہ 1847 میں ایک آدمی نے ایک بچے کے پاس ایک عجیب قسم کا پتھر دیکھا۔ یہ بچہ ہوپ ٹاؤن (Hopetown) جو دریائے اورنج پر واقع ہے، کے ایک کھیت میں کھیل رہا تھا۔ یہ بظاہر ایک گول پتھر تھا۔ اُس شخص نے یہ پتھر بچے کے ہاتھ سے لے کر جب ایک جوہر شناس کو دکھایا تو معلوم ہوا کہ وہ ہیرا (diamond) ہے۔ یہ پتھر 2.122 قيراط وزنی تھا۔ اس ہیرے کو پیرس کی ایک نمائش میں بھی دکھایا گیا (روزنامہ منصف، حیدرآباد، 11 جون 2013)۔
جس طرح پتھر کے معاملے میں جوہر شناسی مطلوب ہے، اسی طرح انسان کے معاملے میں بھی جوہر شناسی مطلوب ہے۔ بے شمار انسان پیدا ہو کر دنیا میں آتے ہیں، لیکن سب یکساں قابلیت کے نہیں ہوتے۔ اُن میں بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جو امکانی طور پر خصوصی صلاحیت لے کر پیدا ہوئے ہوں۔ لیکن یہ صلاحیت ایک چھپی ہوئی صلاحیت ہوتی ہے، وہ آواز دے کر اپنے آپ کو نہیں بتاتی۔ ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی جو ہر شناس ان کی چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانے اور اس کو اظہار کا موقع دے۔
کسی آدمی کے جو ہر کو پہچاننے کی دو صورتیں ہیں— ایک، یہ کہ آدمی اتنا زیادہ خود شناس ہو کہ وہ خود اپنے آپ کو پہچان لے، یا اس کو کوئی ایسا قدرداں مل جائے جو اس کے جو ہر کو پہچانے اور اس کے لیے وہ بوسٹر (booster) بن جائے۔ یہ دونوں نہایت مشکل کام ہیں۔ خودشناس بننے کے لیے کامل درجے کی حقیقت پسندی درکار ہے اور جو ہر شناس بننے کے لیے کامل درجے کی خیر خواہی۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں صفتیں لوگوں کے اندر بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اعلی صلاحیت کے افراد پیدا ہوتے ہیں، لیکن وہ دنیا میں اپنا استعمال نہیں پاتے، کبھی اس لیے کہ وہ خود اپنے آپ کو دریافت نہیں کر پاتے اور کبھی اس لیے کہ دنیا میں اُن کو کوئی سچا خیر خواہ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس میں اکثر لوگ ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues