Al-Risala · October 2014 · page 22

اختلاف کا مسئلہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲

اختلاف کا مسئلہ

مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر مذہبی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف بڑھ کر ککبھی تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ان اختلافات کا سبب مدارس کا نصاب ہے۔ ان کے خیال کے مطابق، اگر مدارس کے نصاب میں اصلاح کر دی جائے تو اختلاف کا خاتمہ ہو جائے گا اور لوگوں کے اندر اتحاد و اتفاق کی حالت قائم ہو جائے گی۔ مگر یہ اصل صورتِ حال کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کا سبب فطرت انسانی ہے، نہ کہ مدارس کے نصاب میں۔ پیدائش کے اعتبار سے، ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ (Mr. Different) ہوتا ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔

یہی فطری فرق اختلاف کا اصل سبب ہے۔ اگر تمام مدارس کا نصاب ایک کر دیا جائے تب بھی اختلاف باقی رہے گا ، کیوں کہ خواہ نصاب کی سطح پر اختلاف نہ ہو تب بھی فطرت کی سطح پر اختلاف موجود رہے گا ، وہ بھی ختم ہونے والا نہیں ۔

حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں ایک ہی مدرسہ ، مدرسہ نبوت ، کے تعلیم یافتہ تھے ، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ ابو الحسن اشعری اور واصل بن عطا دونوں ایک ہی مدرسے کے تعلیم یافتہ تھے ، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔

موجودہ زمانہ میں سرسید احمد خاں اور مولا نا قاسم نانوتوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے ، اِس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا حسین احمد مدنی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے ، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا مسعود علی ندوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے ، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page