اختلاف کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳
اصل یہ ہے کہ خواہ دو آدمیوں نے ایک ہی مدرسہ اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم پائی ہو، لیکن طرزِ فکر (way of thinking) کی سطح پر ہمیشہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق ہے جو اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑھ کر نفرت اور تشدد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اختلاف یا فرق چوں کہ فطرت انسانی کا حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اختلاف کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ ناکام طور پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو اُس اصول کی تعلیم دی جائے جس کو اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، لیکن سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔
انسانوں کے طرزِ فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ کیوں کہ اس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طور پر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لئے نہیں۔
بنگلور میں مولا نا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسبِ ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22118978, Mob. 09060511653 Email.: thecentreforpeace@gmail.com کشن گنج (بہار) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ حسبِ ذیل پتے پر دستیاب ہیں: CPG Messege Forum At+P.O. Bahadurganj, Main Road, Dist. Kishanganj. Pin-855101, Bihar Mob. 9470272115, 9430900563
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues