Al-Risala · October 2014 · page 28

اپنی حد کو جانیے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۸

اپنی حد کو جانیے

ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرے، ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرے ۔ لوگوں کے اس مزاج کی بنا پر یہ مقولہ بنا ہے کہ ـــ آسمان ہی اس کی حد ہے: Sky is the limit یہ مقولہ بہت مشہور ہے۔ لیکن وہ ایک غیر فطری مقولہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی صلاحیتیں بہت محدود ہیں، انسان اپنی محدودیت (limitations) کی وجہ سے ایک حد تک ہی آگے جاسکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ مذکورہ قسم کے مقولے کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ آدمی اپنے نشانے کو نہ پائے، البتہ وہ شدید قسم کی مایوسی میں مبتلا ہو جائے، یہاں تک کہ اسی مایوسی کی حالت میں وہ اس دنیا سے چلا جائے۔ انسان کے لیے صحیح نشانہ ’’آسمان‘‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی فطری حد کو جانے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے صحیح نشانہ یہ ہے کہ وہ خود نے جانیں، اپنے رندوں کا درجہ بنائے رکھیں تا کہ ان میں اپنے اعتبار سے اپنا نشانہ مقرر کرے، وہ یہ کہے کہ:

Stress is the limit

یعنی رازِ اندازِ کار کے صحیح طرائق کی مدد سے مقصد کو حاصل کرنے یہ نامہ یہ مہد رہنمائے ناکام کوشش کر رہے لیکن یعنی انسان کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، لیکن جب اس کو محسوس ہو کہ وہ ذہنی تناؤ (stress) کا شکار ہو رہا ہے تو وہ سمجھے کہ یہاں میری حد آ گئی۔ اس کے عمل کی حد اس کا شوق یا اس کا حوصلہ نہ ہو، بلکہ ذہنی سکون (peace of mind) ہو ۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طور پر استعمال کر سکے۔ جب تک وہ ذہنی تناؤ سے بچا ہوا ہے، اُس وقت تک اس کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی فطری حد کے اندر ہے اور جب وہ دیکھے کہ میں ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہا ہوں تو وہ جان لے کہ اب میری حد آ گئی۔ اب مجھے توقف کرنا چاہیے، نہ کہ نا کام طور پر آگے بڑھنا۔ اس دنیا میں آدمی جو کچھ پاسکتا ہے، وہ فطرت کے دائرے کے چاہئیے، نہ کہ نام نہاد دُور پرائے برسنا۔ اس دُھواں اڑاتی پُھوار پَھڑ پَھڑ اندر پاسکتا ہے، اس کے باہر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page